ملفوظات (جلد 5) — Page 386
نمونہ کو ہمیشہ مد نظر رکھو کہ اس سے کس طرح پر صادقوں اور وفاداروں کی علامتیں ظاہر ہوئی ہیں۔یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لیے پیش کیا ہے۔ہمیشہ ملتے رہو۔یہ دنیا چند روزہ ہے۔ایک دن آتا ہے کہ نہ ہم ہوں گے نہ تم اور نہ کوئی اَور، اور یہ سب جنگل ویرانہ ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مدینہ کی کیا حالت ہو گئی ہر ایک حالت میں تبدیلی ہے پس اس تبدیلی کو مد نظر رکھو اور آخری وقت کو ہمیشہ یادرکھو آنے والی نسلیں آپ لوگوں کا منہ دیکھیں گی اور اسی نمونہ کو دیکھیں گی۔اگرتم پورے طور پر اپنے آپ کو اس تعلیم کا عامل نہ بناؤ گے تو گویا آنے والی نسلوں کو تباہ کروگے۔انسان کی فطرت میں نمونہ پرستی ہے وہ نمونہ سے بہت جلد سبق لیتا ہے۔ایک شرابی اگر کہے کہ شراب نہ پیو یا ایک زانی کہے کہ زنا نہ کرو، ایک چور دوسرے کو کہے کہ چوری نہ کرو توان کی نصیحتوں سے دوسرے کیا فائدہ اٹھائیں گے بلکہ وہ توکہیں گے کہ بڑا ہی خبیث ہے وہ جو خود کرتا ہے اور دوسروں کو اس سے منع کرتا ہے جو لوگ خود ایک بدی میں مبتلا ہو کراس کا وعظ کرتے ہیں وہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔دوسروں کو نصیحت کرنے والے اور خودعمل نہ کرنے والے بے ایمان ہوتے ہیں اور اپنے واقعات کو چھوڑجاتے ہیں ایسے واعظوںسے دنیا کو بہت بڑا نقصان پہنچتا ہے۔ایک مولوی کا ذکر ہے کہ اس نے ایک مسجد کا بہانہ کرکے ایک لاکھ روپیہ جمع کیا ایک جگہ وہ وعظ کر رہاتھا۔اس کے وعظ سے متاثر ہو کر ایک عورت نے اپنی پازیب اتار کراس کو چندہ میں دے دی مولوی صاحب نے کہا کہ اے نیک عورت کیا تو چاہتی ہے کہ تیرا دوسراپاؤں جہنم میں جاوے۔اس نے فی الفور دوسری پازیب بھی اتارکراسے دے دی۔مولوی صاحب کی بیوی بھی اس وعظ میں موجود تھی اس کااس پر بھی بڑا اثرہوا اور جب مولوی صاحب گھر میں آئے تو دیکھا کہ ان کی عورت روتی ہے اور اس نے اپنا سارا زیور مولوی صاحب کو دے دیا کہ اسے بھی مسجد میں لگا دو۔مولوی صاحب نے کہا کہ تو کیوں ایسا روتی ہے یہ تو صرف چندہ کی تجویز تھی اور کچھ نہ تھا۔