ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 387

غرض ایسے نمونوں سے دنیا کو بہت بڑانقصان پہنچا ہے ہماری جماعت کو ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔تم ایسے نہ بنو ،چاہیے کہ تم ہر قسم کے جذبات سے بچو۔ہر ایک اجنبی جو تم کو ملتا ہے وہ تمہارے منہ کو تاڑتا ہے اور تمہارے اخلاق، عادات، استقامت، پابندی احکام الٰہی کو دیکھتا ہے کہ کیسے ہیں اگر عمدہ نہیں تو وہ تمہارے ذریعہ ٹھو کرکھاتا ہے بس ان باتوں کو یادرکھو۔(تَمَّ کَلَامُہُ الْمُبَارَکُ)۱ ۲۸؍دسمبر۱۹۰۳ء دلائل الخیرات اور دیگر وظائف کی نسبت امام الوقت کی رائے ایک صاحب۲ آمدہ از امروہہ نے دریافت کیا کہ دلائل الخیرات جو ایک کتاب وظیفوں کی ہے اگر اسے پڑھا جاوے تو کچھ حرج تو نہیں؟ کیونکہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درودشریف ہی ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تعریف جابجا ہے۔فرمایا کہ انسان کو چاہیے کہ قرآن شریف کثرت سے پڑھے جب اس میں دعا کا مقام آوے تو دعا کرے اور خود بھی خدا سے وہی چاہے جو اس دعا میں چاہا گیا ہے اور جہاں عذاب کا مقام آوے تواس سے پناہ مانگے اور ان بداعمالیوں سے بچے جس کے باعث وہ قوم تباہ ہوئی۔بلا مدد وحی کے ایک بالائی منصوبہ جو کتاب اللہ کے ساتھ ملاتا ہے وہ اس شخص کی ایک رائے ہے جو کہ کبھی باطل بھی ہوتی ہے اور ایسی رائے جس کی مخالفت احادیث میں موجود ہو وہ محدثات میں داخل ہو گی۔رسم اور بدعات سے پرہیز بہتر ہے اس سے رفتہ رفتہ شریعت میں تصرّف شروع ہو جاتا ہے۔بہتر طریق یہ ہے کہ ایسے وظائف میں جو وقت اس نے صرف کرنا ہے وہی قرآن شریف کے تدبّر میں لگا و ے۔دل کی اگر سختی ۱ الحکم جلد ۸ نمبر۴ مورخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۰۴ءصفحہ ۱،۲ ۲ الحکم میں ان کا نام قاضی آل احمد صاحب رئیس امروہہ لکھا ہے (مرتّب)