ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 383

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۳ جلد پنجم ہونے لگتا ہے۔ ظاہری حالت اگر اپنی جگہ کوئی چیز ہوتی اور اس کی قدر و قیمت ہوتی تو ظاہرداری میں تو سب کے سب شریک ہیں عام مسلمان نمازوں میں ہمارے ساتھ شریک ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک شرف اور بزرگی اندرونہ سے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے فرمایا ہے کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور بزرگی ظاہری نماز اور اعمال سے نہیں ہے بلکہ اس کی فضیلت اور بزرگی اس چیز سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ حقیقت میں یہ بات بالکل صحیح ہے کہ شرف اور علو دل ہی کی بات سے مخصوص ہے مثلاً ایک شخص کے دو خدمتگار ہوں اور ان میں سے ایک خدمت گار تو ایسا ہو جو ہر وقت حاضر رہے اور بڑی جانفشانی سے ہر ایک خدمت کے کرنے کو حاضر اور طیار رہے اور دوسرا ایسا ہے کہ کبھی کبھی آجاتا ہے۔ ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے جو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے آقا بھی خوب جانتا ہے کہ یہ محض ایک مزدور ہے جو دن پورے ہو جانے پر تنخواہ لینے والا ہے اور اسی کے لیے کام کرتا ہے اب صاف ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک قدر و قیمت اور محبت اسی سے ہو گی جو محنت اور جانفشانی سے کام کرتا ہے نہ کہ اس مزدور سے۔ پس یاد رکھو کہ وہ چیز جو انسان کی قدر و قیمت کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اخلاص اور وفاداری بڑھاتی ہے بڑھاتی ہے وہ اس کا اخلاص اور وفاداری ہے جو وہ خدا تعالیٰ سے رکھتا ہے ورنہ مجاہدات خشک سے کیا ہوتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دیکھا گیا ہے کہ ایسے ایسے لوگ بھی مجاہدات کرتے تھے جو چھت سے رسہ باندھ کر (اپنے) آپ کو ساری رات جاگنے کے لیے لڑکا رکھتے تھے لیکن کیا وہ ان مجاہدات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہو گئے تھے؟ ہر گز نہیں ۔ نامرد، بزدل ، بے وفا جو خدا تعالیٰ سے اخلاص اور وفاداری کا تعلق نہیں رکھتا بلکہ دغا دینے والا ہے وہ کس کام کا ہے اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے۔ ساری قیمت اور شرف وفا سے ہوتا ہے۔ ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو جو شرف اور درجہ ملا وہ کس بنا پر ملا ؟ قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا ہے۔ ابْراهِيمَ الَّذِي وَفي (النجم : ۳۸) ابراہیم وہ جس نے ہمارے ساتھ وفاداری کی ۔ آگ میں ڈالے