ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 384

گئے مگر انہوں نے اس کو منظور نہ کیا کہ وہ ان کافروںکو کہہ دیتے کہ تمہارے ٹھاکروں کی پوجا کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ کے لیے ہر تکلیف اور مصیبت کو برداشت کرنے پر آمادہ ہو گئے خدا تعالیٰ نے کہا کہ اپنی بیوی کو بے آب ودانہ جنگل میں چھوڑآ۔انہوں نے فی الفوراس کو قبول کر لیا ہر ایک ابتلا کو انہوں نے اس طرح پر قبول کر لیا کہ گویا عاشق اللہ تھا۔درمیان میں کوئی نفسانی غرض نہ تھی۔اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتلا پیش آئے۔خویش واقارب نے مل کر ہر قسم کی ترغیب دی کہ اگر آپ مال ودولت چاہتے ہیں تو ہم دینے کو طیار ہیں اور اگر آپ بادشاہت چاہتے ہیں تو اپنا بادشاہ بنا لینے کو طیار ہیں اگر بیویوں کی ضرورت ہے تو خوبصورت بیویاں دینے کو موجود ہیں۱ مگر آپ کا جواب یہی تھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے شرک کے دور کرنے کے واسطے مامور کیا ہے جو مصیبت اور تکلیف تم دینی چاہتے ہو دے لو میں اس سے رک نہیں سکتا کیونکہ یہ کام جب خدا نے میرے سپردکیا ہے پھر دنیا کی کوئی ترغیب اور خوف مجھ کو اس سے ہٹا نہیں سکتا۔آپ جب طائف کے لوگوں کو تبلیغ کرنے گئے توان خبیثوں نے آپ کے پتھر مارے جس سے آپ دوڑتے دوڑتے گر جاتے تھے لیکن ایسی مصیبتوں اور تکلیفوں نے آپ کو اپنے کام سے نہیں روکا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صادقوں کے لیے کیسی مشکلات اور مصائب کا سامنا ہوتا ہے اور کیسی مشکل گھڑیاں ان پر آتی ہیں مگر باوجود مشکلات کے ان کی قدرشناسی کا بھی ایک دن مقررہوتا ہے اس وقت ان کا صدق روزِروشن کی طرح کھل جاتا ہے اور ایک دنیا ان کی طرف دوڑتی ہے۔عبداللطیف کے لیے وہ دن جو اس کی سنگساری کا دن تھا کیسا مشکل تھا وہ ایک میدان میں سنگساری کے لیے لایا گیا اور ایک خلقت اس تماشا کو دیکھ رہی تھی مگر وہ دن اپنی جگہ کس قدر، قدروقیمت رکھتا ہے۔اگر اس کی باقی ساری زندگی ایک طرف ہو اور وہ دن ایک طرف، تو وہ دن قدروقیمت میں بڑھ جاتا ہے زندگی کے یہ دن بہرحال گذر ہی جاتے ہیں اور اکثر بہائم کی زندگی کی طرح گذرتے ہیں لیکن مبارک وہی دن ہے جو خدا تعالیٰ کی محبت و وفا میں گذرے۔فرض کرو کہ ایک شخص کے پاس ۱ البدر سے۔’’ مگر اس وعظ اور تبلیغ سے بازآؤ۔‘‘ (البدر جلد ۳نمبر۳ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۴ءصفحہ۶)