ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 382 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 382

موجب ہوگی۔اس کے سوا اب یہ خون اُٹھنے لگا ہے اور اس کا اثر پیدا ہونا شروع ہوگیا ہے جو ایک جماعت کو پیدا کر دے گا۔۱ یہ خون کبھی خالی نہیں جائے گا۔اللہ تعالیٰ اس کے مصالح اور حکمتوں کو خوب جانتا ہے لیکن جہاں تک پیشگوئی کے الفاظ پر غور کرتا ہوں اس میں عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَيْـًٔا وَّ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ۔ایک ہی بڑی تسلی اور اطمینان کی بات ہے کہ جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ اس خون کے بہت بڑے بڑے نتائج پیدا ہونے والے ہیں۔میں جانتا ہوں اور اس پر افسوس بھی کرتا ہوں کہ جس قسم کا نمونہ صدق اور وفا کا عبد اللطیف نے دکھلایا ہے۔اس قسم کے ایمان کے لیے میرا کانشنس فتویٰ نہیں دیتا کہ ایسے لوگ میری جماعت میں بہت ہیں۔اس لیے میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو اس قسم کا اخلاص اور صدق عطا کرے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو عزیز نہ سمجھیں۔بزدلی کو دور کرو میں ابھی جماعت میں بزدلی کو دیکھتا ہوں اور جب تک یہ بزدلی دور نہ ہو اور عبد اللطیف کا سا ایمان پیدا نہ ہو۔یقیناً یاد رکھو کہ وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں ہے بلکہ وہ يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ (البقرۃ:۱۰) میں داخل ہے۔مومنوں میں وہ اس وقت داخل ہوں گے جب وہ اپنی نسبت یہ یقین کرلیں گے کہ ہم مُردے ہیں۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب دشمنوں کے مقابلہ پر جاتے تھے وہ ایسے معلوم ہوتے تھے کہ گویا گھوڑوں پر مُردے سوار ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ اب ہم کو موت ہی اس میدان سے الگ کرے گی۔اللہ تعالیٰ لاف وگزاف کو پسند نہیں کرتا وہ دل کی اندرونی حالت کو دیکھتا ہے کہ اس میں ایمان کا کیا رنگ ہے۔جب ایمان قوی ہو تو استقامت اور استقلال پیدا ہوتا ہے اور پھر انسان اپنی جان ومال کو ہرگز اس ایمان کے مقابلہ میں عزیز نہیں رکھ سکتا اور استقامت ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا،لیکن جب استقامت ہوتی ہے تو پھر انعامات الٰہیہ کا دروازہ کُھلتا ہے دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں مکالمات الٰہیہ کا شرف بھی دیا جاتا ہے یہاں تک کہ استقامت والے سے خوارق کا صدور ۱ الحکم جلد ۸ نمبر۳ مورخہ ۲۴؍ جنوری ۱۹۰۴ءصفحہ ۱،۲