ملفوظات (جلد 5) — Page 374
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۴ جلد پنجم ہے۔ یہ رضا کا اعلیٰ مقام ہے جہاں کوئی ابتلا باقی نہیں رہتا ۔ دوسرے جس قدر مقامات ہیں وہاں ۔ ابتلا کا اندیشہ رہتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ سے بالکل راضی ہو جاوے اور کوئی شکوہ شکایت نہ رہے اس وقت محبت ذاتی پیدا ہو جاتی ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ سے محبت ذاتی پیدا نہ ہو تو ایمان بڑے خطرہ کی حالت میں ہے لیکن جب ذاتی محبت ہو جاتی ہے تو انسان شیطان کے حملوں سے امن میں آجاتا ہے۔ اس ذاتی محبت کو دعا سے حاصل کرنا چاہیے جب تک یہ محبت پیدا نہ ہو انسان نفس امارہ کے نیچے رہتا ہے اور اس کے پنجہ میں گرفتار رہتا ہے اور ایسے لوگ جو نفس امارہ کے نیچے ہیں ان کا قول ہے کہ ایہہ جہاں مٹھا تو اگلہ کن ڈٹھا یہ لوگ بڑی خطرناک حالت میں ہوتے ہیں اور لو امہ والے ایک گھڑی میں ولی اور ایک گھڑی میں شیطان ہو جاتے ہیں۔ ان کا ایک رنگ نہیں رہتا کیونکہ ان کی لڑائی نفس کے ساتھ شروع ہوتی ہے جس میں کبھی وہ غالب اور کبھی مغلوب ہوتے ہیں تاہم یہ لوگ محل مدح میں ہوتے ہیں کیونکہ ان سے نیکیاں بھی سرزد ہوتی ہیں اور خوف خدا بھی ان کے دل میں ہوتا ہے لیکن نفس مطمئنہ والے بالکل فتح مند ہوتے ہیں اور وہ سارے خطروں اور خوفوں سے نکل کر امن کی جگہ میں جا پہنچتے ہیں وہ اس دارالامان میں ہوتے ہیں جہاں شیطان نہیں پہنچ سکتا ۔ لوامہ والا جیسا کہ میں نے کہا ہے دارالامان کی ڈیوڑھی میں ہوتا ہے اور کبھی کبھی دشمن بھی اپنا وار کر جاتا ہے اور کوئی لاٹھی مار جاتا ہے اس لئے مطمئنہ والے کو کہا ہے فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ( الفجر : ۳۰، ۳۱) یہ آواز اس وقت آتی ہے جب وہ اپنے تقویٰ کو انتہائی مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے۔ تقویٰ کے دو درجے ہیں۔ بدیوں سے بچنا اور نیکیوں میں سرگرم ہونا۔ یہ دوسرا مرتبہ حسنین کا ہے۔ اس درجہ کے حصول کے بغیر اللہ تعالی خوش نہیں ہو سکتا اور یہ مقام اور درجہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ جب انسان بدی سے پر ہیز کرتا ہے اور نیکیوں کے لیے اس کا دل تڑپتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کی دستگیری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے دارالامان میں پہنچا دیتا ہے اور فَادْخُلِي فِي عِبْدِی کی آواز اسے آجاتی ہے یعنی تیری جنگ اب ختم ہو چکی ہے اور میرے ساتھ تیری صلح اور آشتی ہو چکی ہے اب آمیرے بندوں میں داخل ہو جو صِرَاطَ الَّذِينَ