ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 373

کی صحبت سے کس قدر فائدے ہیں سخت بدنصیب ہے وہ شخص جو صحبت سے دور رہے۔مقامِ نفس مطمئنّہ غرض نفس مطمئنّہ کی تاثیروں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اطمینان یافتہ لوگوں کی صحبت میں اطمینان پاتے ہیں۔امّارہ والے میں نفس امّارہ کی تا ثیریں ہوتی ہیں اور لوّامہ والے میں لوّامہ کی تاثیریں ہوتی ہیں اور جوشخص نفس مطمئنّہ والے کی صحبت میں بیٹھتا ہے۔اس پر بھی اطمینان اور سکینت کے آثار ظاہر ہونے لگتے ہیں اور اندر ہی اندر اسے تسلی ملنے لگتی ہے۔مطمئنّہ والے کو پہلی نعمت یہ دی جاتی ہے کہ وہ خدا سے آرام پاتا ہے جیسے فرمایا ہے يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً(الفجر:۲۸،۲۹)یعنی اے خدا تعالیٰ میں آرام یافتہ نفس اپنے رب کی طرف آجا وہ تجھ سے راضی اورتو اس سے راضی۔اس میں ایک باریک نکتہ معرفت ہے جو یہ کہا کہ خدا تجھ سے راضی تو خدا سے راضی۔بات یہ ہے کہ جب تک انسان اس مرحلہ پرنہیں پہنچتا اور لوّامہ کی حالت میں ہوتا ہے اس وقت تک خدا تعالیٰ سے ایک قسم کی لڑائی رہتی ہے یعنی کبھی کبھی وہ نفس کی تحریک سے نا فر مانی بھی کر بیٹھتا ہے لیکن جب مطمئنّہ کی حالت پر پہنچتا ہے تو اس جنگ کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے صلح ہو جاتی ہے اس وقت وہ خدا سے راضی ہوتا ہے اور خدا اس سے راضی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ لڑائی بھڑائی بالکل جاتی رہتی ہے۔یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیے کہ ہر شخص خدا تعالیٰ سے لڑائی رکھتا ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتا ہے اور بہت سی امانی اور امیدیںرکھتا ہے لیکن اس کی وہ دعائیں نہیں سنی جاتی ہیں یا خلاف اُمید کوئی بات ظاہر ہوتی ہے تو دل کے اندر اللہ تعالیٰ سے ایک لڑائی شروع کر دیتاہے۔خدا تعالیٰ پر بدظنّی اور اُ س سے ناراضگی کا اظہار کرتا ہے لیکن صالحین اور عباد الرحمٰن کی کبھی اللہ تعالیٰ سے جنگ نہیں ہوتی کیونکہ وہ رضا با لقضا کے مقام پر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ حقیقی ایمان اس وقت تک پیدا ہو ہی نہیں سکتا جب تک انسان اس درجہ کو حاصل نہ کرے کہ خدا کی مرضی اس کی مرضی ہو جاوے دل میں کوئی کدورت اور تنگی محسوس نہ ہو بلکہ شرح صدر کے ساتھ اس کی ہرتقدیر اور قضا کے سامنے کو طیار ہو۔اس آیت میں رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً کا لفظ اسی کی طرف اشارہ کر رہا