ملفوظات (جلد 5) — Page 375
اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے( الفاتـحۃ:۷) مصداق ہیں اور رُوحانی وراثت سے جن کو حصہ ملتا ہے میری بہشت میں داخل ہو جا۔یہ آیت جیسا کہ ظاہر میں سمجھتے ہیں کہ مَرنے کے بعد اسے آواز آتی ہے آخرت پر ہی موقوف نہیں بلکہ اسی دنیا میں اسی زندگی میں یہ آواز آتی ہے۔اہلِ سلوک کے مراتب رکھے ہوئے ہیں ان کے سلوک کا انتہائی نقطہ یہی مقام ہے جہاں ان کا سلوک ختم ہو جاتا ہے اور وہ مقام یہی نفسِ مطمئنّہکا مقام ہے۔اہلِ سلوک کی مشکلات کو اللہ تعالیٰ اُٹھا دیتاہے اور ان کو صالحین میں داخل کردیتا ہے جیسا فرمایا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدْخِلَنَّهُمْ فِي الصّٰلِحِيْنَ(العنکبوت:۱۰) یعنی جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے ہم ان کو ضرور ضرور صالحین میں داخل کر دیتے ہیں۔اس پر بعض اعتراض کرتے ہیں کہ اعمال صالحہ کرنے والے صالحین ہوتے ہیں پھر ان کو صالحین میں داخل کرنے سے کیا مُراد ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ اس میں ایک لطیف نقطہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو بیان فرماتا ہے کہ صلاحیت کی دو قسم ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ انسان تکالیف شاقہ اُٹھا کر نیکیوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔نیکیاں کرتا ہے لیکن ان کے کرنے میں اسے تکلیف اور بوجھ معلوم ہوتا ہے اور اندر نفس کے کشاکش موجود ہوتی ہے اور جب وہ نفس کی مخالفت کرتا ہے تو سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے لیکن جب وہ اعمالِ صالحہ کرتا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے جیسا کہ اس آیت کا منشا ہے اس وقت وہ تکالیف شاقّہ اور محنتیں جو خود نیکیوں کے لیے برداشت کرتا ہے اُٹھ جاتی ہیں اور طبعی طور پر وہ صلاحیت کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۱ اور وہ تکالیف تکالیف نہیں رہتی ہیں اور نیکیوں کو ایک ذوق اور لذّت سے کرتا ہے اور ان دونوں میں یہی فرق ہوتا ہے کہ پہلا نیکی کرتا ہے مگرتکلیف اور تکلّف سے اور دوسرا ذوق اور لذّت سے۔وہ نیکی اس کی غذاہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔۱ البدر میں ہے۔’’اعضا اور قویٰ کی یہ فطرت ہوجاتی ہے کہ ان سے نیک اعمال صادر ہوں۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۵) ۲ الحکم جلد ۸ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱،۲