ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 357 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 357

پیشگوئی ہے۔ایک انسان کاغذ کا کبوتر بنا کر دکھلاوے تو اس کی نظیر دوسرے ایسے کام اور بھی کرکے دکھا دیتے ہیں اور اسے اعجاز میں شمار نہیں کیا جاتا۔مگر پیشگوئی کا میدان وسیع ہے۔اس کی نظیر پیدا کرنا انسان کاکام نہیں۔ہزار ہزار برس پیشتر اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنے ارادہ سے اطلاع دیتا ہے اور پھر وہ بات اپنے وقت پر پوری ہوکر رہتی ہے۔مثلاً براہین کی ہی پیشگوئیوں کو دیکھو کہ جس قدر مخالفت ہورہی ہے۔مقدمات ہوئے۔گورنمنٹ تک نوبت پہنچی۔یہ سب اوّل سے اس میں درج ہیں اور پھر کامیابی،فتح اور نصرت کی بھی خبر اوّل سے ہی دے دی۔کوئی سوچ کر بتلادے کہ اس میں کیا فریب اور شعبدہ ہے۔۲۳، ۲۴سال پیشتر کی چھپی ہوئی یہ کتاب ہے۔کوئی بتلا سکتا ہے کہ ہمارے پاس اس وقت کون کون ہوتا تھا۔اگر اہل الرائے کے نزدیک یہ ایک انسانی فعل ہے اور خدا کا نہیں ہے تو وہ اس کی نظیر پیش کریں لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتے۔جبکہ یہ حال ہے تو پھر اسے کیوں خدا کا کلام نہ کہا جاوے۔جس قدر لوگ ہماری صحبت میں رہنے والے ہیں ان میں کوئی اُٹھ کر بتلاوے کہ کیا کوئی ایسا فردِ بشر بھی ہے کہ اس نے کوئی نشان نہ دیکھا ہو۔ہمارے پر سلطنت ایسے لوگوں کی ہے جو سچے اور کامل خدا سے بالکل بے خبر ہیں۔دنیاوی امور میں اس قدر مصروفیت ہے کہ دین سے بالکل غافل رہے اور وہی فلسفہ کا زور۔اس لیے دہریت ان میں آگئی۔اب ہمارا بڑا کام یہ ہے کہ نئے سرے سے بنیاد ڈالیں اور ان کو دکھا دیویں کہ خدا ہے۔ہر ایک ہمارے پاس کسی نہ کسی ضرورت کے لیے آتا ہے مگر اصل میں بڑی ضرورت خداشناسی کی ہے۔اسی کے نہ ہونے سے گناہ ہوتا ہے۔کتّا ایک ذلیل سے ذلیل جانور ہے مگر اس سے خوف زدہ ہو کر وہ راہ چھوڑ دیتا ہے اسی طرح جس راہ میں اسے علم ہو کہ سانپ یا بھیڑ یا ہے تو اسے چھوڑ دیتا ہے۔جب وہ ادنیٰ ترین جانوروں سے ڈرتا ہے تو کیا خدا کے وجود کا اسے اتنا بھی خوف نہیں ہے کہ اس سے دور ہو کر گناہ سے باز رہے۔زہر اس کے سامنے ہوتو اسے نہیں کھائے گا لیکن گناہ کو دیدہ دانستہ کرلےگا۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں ہے۔حالانکہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس نے ایک جہنم یہاں بھی طیار کررکھا ہے کہ جب کوئی بدکاری کرتا