ملفوظات (جلد 5) — Page 356
خدا شناسی کی ضرورت یہ دنیا چند روزہ ہے اور ایسا مقام ہے کہ آخر فناہے۔اندرہی اندر اس فناکا سامان لگاہوا ہے وہ اپناکام کر رہا ہے مگر خبر نہیں ہوتی اس لیے خدا شناسی کی طرف قدم جلد اٹھاناچاہیے۔خدا کا مزا اسے آتا ہے جو اسے شناخت کرے اور جو اس کی طرف صدقِ وفا سے قدم نہیں اُٹھاتا اس کی دعا کھلے طور پر قبول نہیں ہوتی۔اور کوئی نہ کوئی حصہ تاریکی کا اسے لگا ہی رہتا ہے۔اگر خدا کی طرف ذراسی حرکت کروگے تو وہ اس سے زیادہ تمہاری طرف حرکت کرے گا،لیکن اوّل تمہاری طرف سے حرکت کا ہونا ضروری ہے۔یہ خام خیالی ہے کہ بلا حرکت کئے کے اس سے کسی قسم کی توقع رکھی جاوے یہ سنّت اللہ اسی سے جاری ہے کہ ابتدا میں انسان سے ایک فعل صادر ہوتا ہے۔پھر اس پر خدا تعالیٰ کا ایک فعل نتیجۃً ظاہر ہوتا ہے۔اگر ایک شخص اپنے مکان کے کل دروازے بند کر دے گا تو یہ بند کرنا اس کا فعل ہوگا۔خدا کا فعل اس پر یہ ظاہر ہوگا کہ اس مکان میں اندھیرا ہو جاوے گا لیکن انسان کو اس کوچہ میں پڑ کر صبرسے کام لینا چاہیے۔بعض لوگ شکایت کیا کرتے ہیں کہ ہم نے سب نیکیاں کیں۔نماز بھی پڑھی روزے بھی رکھے۔صدقہ خیرات بھی دیا مجاہدہ بھی کیا مگر ہمیں وصول کچھ نہیں ہوا۔تو ایسے لوگ شقی ازلی ہوتے ہیں کہ وہ خدا کی صفتِ ربوبیت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ انہوں نے سب اعمال خدا کے لیے کئے ہوتے ہیں۔اگر خدا کے لیے کوئی فعل کیا جاوے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ضائع ہو اور خدا تعالیٰ اس کا اجر اسی زندگی میں نہ دیوے۔اسی وجہ سے اکثر لوگ شکوک وشبہات میں رہتے ہیں اور ان کو خدا کی ہستی کا کوئی پتا نہیں لگتا کہ ہے بھی کہ نہیں۔ایک پارچہ سِلا ہوا ہو تو انسان جان لیتا ہے کہ اس کے سینے والا ضرور کوئی ہے۔ایک گھڑی ہے وقت دیتی ہے۔اگر جنگل میں بھی انسان کو مل جاوے تو وہ خیال کرے گا کہ اس کا بنانے والا ضرور ہے۔پس اسی طرح خدا کے افعال کو دیکھو کہ اس نے کس کس قسم کی گھڑیاں بنارکھی ہیں اور کیسے کیسے عجائباتِ قدرت ہیں ایک طرف تو اس کی ہستی کے عقلی دلائل ہیں۔ایک طرف نشانات ہیں وہ انسان کو منوا دیتے ہیں کہ ایک عظیم الشان قدرتوں والا خدا موجود ہے وہ پہلے اپنے برگزیدہ پر اپنا ارادہ ظاہر فرمایا کرتا ہے اور یہی بھاری شَے ہے جو انبیاء لاتے ہیں اور جس کا نام