ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 358 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 358

ہے تو اس کی سزا بھی ساتھ ہی پاتا ہے۔جس کسی کی جہنمی زندگی ہے وہ خوب محسوس کر لے گا۔سچی بات یہ ہے کہ جرائم پیشہ کو وہ کبھی نہیں چھوڑتا جو شخص دلیری اور چالاکی سے گناہ کرتا ہے اس کا انجام بد ہوتا ہے۔یہ تو جسمانی طور پر گناہ کی سزا ہے لیکن روحانی طور پر بھی جو شخص خدا کو نہیں پہچا نتا وہ جہنم ہی ہے۔بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ حیوانوں کی طرح کھاپی لیا اور عورتوں کے پاس ہوآیا۔اگر اسی کا نام زندگی ہے تو بتلائو کہ حیوانوں میں اور اس میں کیا فرق ہے اور حیوانوں سے زائد قویٰ عقل وفکروغیرہ کے خدا نے اسے کیوں دیئے۔جو لوگ ان قویٰ سے کام نہیں لیتے ان کو خدا تعالیٰ اَضَل از اَنْعام قرار دیتا ہے۔یہ اس لیے کہ اس نے قویٰ کو معطل کردیا۔بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ انسان کو حقیقی طور پر معلوم ہو جاوے کہ خدا ہے۔جس قدر جرائم، معاصی اور غفلت وغیرہ ہوتی ہے ان سب کی جڑ خدا شناسی میں نقص ہے۔اسی نقص کی وجہ سے گناہ میں دلیری ہوتی ہے۔بدی کی طرف رجوع ہوتا ہے۔اور آخر کار بد چلنی کی وجہ سے آتشک کی نوبت آتی ہے پھر اس سے جذام ہوتا ہے جس سے نوبت موت تک پہنچتی ہے۔حالانکہ اگر بدکارآدمی بدکاری میں لذّت حاصل نہ کرے تو خدا اسے لذّت اَور طریق سے دےدے گا یا اس کے جائز وسائل بہم پہنچا دے گا۔مثلاً اگر چور چوری کرنا ترک کر دے تو خدا اسے مقدر رزق ایسے طریق سے دے دے گا کہ حلال ہو اور حرامکار حرامکاری نہ کرے تو خدا نے اس پر حلال عورتوں کا دروازہ بند نہیں کردیا۔اسی لیے بد نظری اور بدکاری سے بچنے کے لیے ہم نے اپنی جماعت کو کثرتِ ازدواجی کی بھی نصیحت کی ہے کہ تقویٰ کے لحاظ سے اگر وہ ایک سے زیادہ بیویاں کرنا چاہیں تو کرلیں مگر خدا کی معصیت کے مرتکب نہ ہوں۔پھر گناہ کرکے جو شخص ایمان کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔۱ ۱ البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخہ ۸ ؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ۱۳،۱۴