ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 354

کرے اپنی مرضی نہ کرے بناوٹ سے کوئی حاصل کرنا چاہے تو ہرگز نہ ہوگا۔اس لیے خدا کے فضل کی ضرورت ہے اور وہ اسی طرح سے ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو دعا کرے اور ایک طرف کوشش کرتا رہے خدا تعالیٰ نے دعا اور کوشش دونوں کی تاکید فرمائی ہے اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) میں تودعا کی تاکید فرمائی ہے اور جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت:۷۰) میں کوشش کی۔جب تک تقویٰ نہ ہوگی اولیاء الرحمٰن میں ہرگز داخل نہ ہوگا اور جب تک یہ نہ ہوگا حقائق اور معارف ہرگز نہ کھلیں گے قرآن شریف کی عروس اسی وقت پردہ اٹھاتی ہے جب اندرونی غبار دور ہو جاتا ہے مگر افسوس ہے کہ جس قدر محنت اور دعا دنیوی امور کے لیے ہوتی ہے خدا کے لیے اس قدر بالکل نہیں ہوتی اگر ہوتی ہے تو عام رسمی رواجی الفاظ میں کہ صرف زبان پر ہی و ہ مضمون ہوتا ہے نہ کہ دل میں اپنے اپنے نفس کے لیے توبڑے سوز اور گدازش سے دعائیں کرتے ہیں کہ قرض سے خلاصی ہو یا فلاں مقدمہ میں فتح ہو یا مرض سے نجات ملے مگر دین کے لیے ہرگز وہ سوز و گدازش نہیں ہوتی۔دعا صرف لفظوں کا نام نہیں کہ موٹے اور عمدہ عمدہ لفظ بول لیے بلکہ یہ اصل میں ایک موت ہے۔اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) کے یہی معنے ہیں کہ انسان سوزوگدازش میں اپنی حالت موت تک پہنچاوے مگر جاہل لوگ دعا کی حقیقت سے ناواقف اکثر دھوکا کھاتے ہیں جب کوئی خوش قسمت انسان ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ دنیا اور اس کے افکار کیا شَے ہے اصل بات تو دین ہے اگر وہ ٹھیک ہو اتو سب ٹھیک ہے۔ع شب تنور گذشت و شب سمور گذشت یہ خواہ تنگی سے گذرے خواہ فراخی سے اور وہ آخرت کا فکر کرتا ہے۔کوئی پاک نہیں بن سکتا جب تک خدا نہ بناوے۔جب خدا کے دروازہ پر تذلّل اور عجزسے اس کی روح گرے گی تو خدا اس کی دعا قبول کرے گا اور وہ متقی بنے گا اور اس وقت وہ اس قابل ہوسکے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو سمجھ سکے اس کے بغیر جو کچھ وہ دین دین کرکے پکارتا ہے اور عبادت وغیرہ کرتا ہے وہ ایک رسمی بات اور خیالات ہیں کہ آبائی تقلید سے سن سناکر بجالا تا ہے کوئی حقیقت اور روحانیت اس کے اندر نہیں ہوتی۔