ملفوظات (جلد 5) — Page 354
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۴ جلد پنجم کرے اپنی مرضی نہ کرے بناوٹ سے کوئی حاصل کرنا چاہے تو ہرگز نہ ہوگا۔ اس لیے خدا کے فضل کی ضرورت ہے اور وہ اسی طرح سے ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو دعا کرے اور ایک طرف کوشش کرتا رہے خدا تعالیٰ نے دعا اور کوشش دونوں کی تاکید فرمائی ہے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن: ۶۱) میں تو دعا کی تاکید فرمائی ہے اور جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( العنكبوت:۷۰) میں کوشش کی۔ جب تک تقوی نہ ہو گی اولیاء الرحمن میں ہر گز داخل نہ ہوگا اور جب تک یہ نہ ہو گا حقائق اور معارف ہرگز نہ کھلیں گے قرآن شریف کی عروس اسی وقت پردہ اٹھاتی ہے جب اندرونی غبار دور ہو جاتا ہے مگر افسوس ہے اٹھاتی کہ جس قدر محنت اور دعاد نیوی امور کے لیے ہوتی ہے خدا کے لیے اس قدر بالکل نہیں ہوتی اگر ہوتی ہے تو عام رسمی رواجی الفاظ میں کہ صرف زبان پر ہی وہ مضمون ہوتا ہے نہ کہ دل میں اپنے اپنے نفس کے لیے تو بڑے سوز اور گدازش سے دعائیں کرتے ہیں کہ قرض سے خلاصی ہو یا فلاں مقدمہ میں فتح ہو یا مرض سے نجات ملے مگر دین کے لیے ہرگز وہ سوز و گدازش نہیں ہوتی ۔ دعا صرف لفظوں کا نام نہیں کہ موٹے اور عمدہ عمدہ لفظ بول لیے بلکہ یہ اصل میں ایک موت ہے ۔ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المؤمن : ۶۱) کے یہی معنے ہیں کہ انسان سوز و گدازش میں اپنی حالت موت تک پہنچاوے مگر جاہل لوگ دعا کی حقیقت سے ناواقف اکثر دھوکا کھاتے ہیں جب کوئی خوش قسمت انسان ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ دنیا اور اس کے افکار کیا شے ہے اصل بات تو دین ہے اگر وہ ٹھیک ہوا تو سب ٹھیک ہے۔ شب تنور گذشت و شب سمور گذشت ع یہ خواہ تنگی سے گذرے خواہ فراخی سے اور وہ آخرت کا فکر کرتا ہے۔ کوئی پاک نہیں بن سکتا جب تک خدا نہ بناوے۔ جب خدا کے دروازہ پر تذلل اور عجز سے اس کی روح گرے گی تو خدا اس کی دعا قبول کرے گا اور وہ متقی بنے گا اور اس وقت وہ اس قابل ہو سکے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو سمجھ سکے اس کے بغیر جو کچھ وہ دین دین کر کے پکارتا ہے اور عبادت وغیرہ کرتا ہے وہ ایک رسمی بات اور خیالات ہیں کہ آبائی تقلید سے سن سنا کر بجالا تا ہے کوئی حقیقت اور روحانیت اس کے اندر نہیں ہوتی ۔