ملفوظات (جلد 5) — Page 353
طالب ِحق کے لیے یہ معجزہ کافی ہے۔۱ ۲۵؍دسمبر۱۹۰۳ء اِکرامِ ضیف شام کے وقت بہت سے احباب بیرون جات سے آئے ہوئے تھے آپ نے میاں نجم الدین صاحب مہتمم لنگر خانہ کو بلوا کرتاکید اً فرمایا کہ دیکھو بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں اس لیے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الاکرام جان کر تواضع کرو۔سردی کا موسم ہے۔چاء پلاؤاور تکلیف کسی کو نہ ہو۔تم پر میرا حُسنِ ظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو ان سب کی خوب خدمت کرو اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کردو۔دینی علوم کی تحصیل کے لئے تقویٰ اور طہارت کی ضرورت ہے جب تک خدا کی طرف سے روشنی نہ ہو تب تک انسان کو یقین نہیں ملتا۔اس کی باتوں میں تناقض ہوگا دینی اور دنیاوی علوم میں یہ فرق ہے کہ دنیاوی علوم کی تحصیل اور ان کی باریکیوں پر واقف ہونے کے لیے تقویٰ طہارت کی ضرورت نہیں ہے ایک پلید سے پلید انسان خواہ کیسا ہی فاسق و فاجر ہو، ظالم ہو، وہ ان کو حاصل کرسکتا ہے چوڑھے چماربھی ڈگریاں پا لیتے ہیں، لیکن دینی علوم اس قسم کے نہیں ہیں کہ ہر ایک ان کو حاصل کرسکے ان کی تحصیل کے لیے تقویٰ اور طہارت کی ضرورت ہے جیسے کہ خدا تعالیٰ فر ماتا ہے لَا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ۠ (الواقعۃ:۸۰)پس جس شخص کو دینی علوم حاصل کرنے کی خواہش ہے اسے لازم ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرے جس قدر وہ ترقی کرے گا اسی قدر لطیف دقائق اور حقائق اس پر کھلیں گے۔تقویٰ کا مرحلہ بڑا مشکل ہے اسے وہی طے کرسکتا ہے جو بالکل خدا کی مرضی پر چلے جو وہ چاہے وہ ۱ البدر جلد ۳ نمبر ۲ مورخہ ۸ ؍جنوری ۱۹۰۴صفحہ ۱۲،۱۳