ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 355

لیلۃ القدر کے معنے اور اس میں عمل کی قدر اس سے پیشتر بھی میں نے لکھا ہے کہ ہم لیلۃ القدر کے دونوں معنوں کو مانتے ہیں ایک وہ جو عرف عام میں ہے کہ بعض راتیں ایسی ہوتی ہیں کہ خدا تعالیٰ ان میں دعائیں قبول کرتا ہے اور ایک اس سے مُراد تاریکی کے زمانہ کی ہے جس میں عام ظلمت پھیل جاتی ہے حقیقی دین کا نام ونشان نہیں رہتا ہے اس میں جو شخص خدا کے سچے متلاشی ہوتے ہیں اور اس کی اطاعت کرتے ہیں وہ بڑے قابل قدر ہوتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک بادشاہ ہو اور اس کا ایک بڑا لشکر ہو۔دشمن کے مقابلے کے وقت سب لشکر بھاگ جاوے اور صرف ایک یا دو آدمی وفادار اس کے ساتھ رہ جاویں اور انہیں کے ذریعہ سے اسے فتح حاصل ہو تو اب دیکھ لو کہ ان ایک یادو کی بادشاہ کی نظر میں کیا قدر ہوگی۔پس اس وقت جبکہ ہر طرف دہریت پھیلی ہوئی ہے کوئی تو قول سے اور کوئی عمل سے خدا کا انکار کر رہا ہے۔ایسے وقت میں جو خدا کا حقیقی پرستار ہوگا وہ بڑا قابلِ قدر ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی لیلۃ القدر کا زمانہ تھا اس وقت کی تاریکی اور ظلمت کی بھی کوئی انتہانہ تھی ایک طرف یہود گمراہ۔ایک طرف عیسائی گمراہ۔ادھر ہندوستان میں دیوتا پرستی۔آتش پرستی وغیرہ۔گویا سب دنیا میں بگاڑ پھیلا ہوا تھا اس وقت بھی جبکہ ظلمت انتہا تک پہنچ گئی تھی تو اس نے تقاضا کیا تھا کہ ایک نور آسمان سے نازل ہو۔سو وہ نور جو نازل ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات تھی۔قاعدہ کی بات ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال کو پہنچتی ہے تو وہ نور کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔جیسے کہ جب چاند کی ۲۹؍تاریخ ہو جاتی ہے اور رات بالکل اندھیری ہوتی ہے تو نئے چاند کے نکلنے کا وقت ہوتا ہے تو اس زمانہ کو بھی خدا نے لیلۃالقدر کے نام سے موسوم کیاہے جیسے کہ فرماتا ہے اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ (القدر:۲) اسی طرح جب نور اپنے کمال کو پہنچتا ہے توپھروہ گھٹنا شروع ہوتا ہے جیسے کہ چاند کو دیکھتے ہو اور اسی طرح سے یہ قیامت تک رہے گا کہ ایک وقت نور کا غلبہ ہوگا اور ایک وقت ظلمت کا۔