ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 327

ہمارے کام کا انسان ہمارے کام کا وہ انسان ہوسکتا ہے جبکہ ایک مدّت اور نہیں تو کم ازکم ایک سال ہماری مجلس میں رہے اور تمام ضروری امور کو سمجھ لیوے اور ہم اطمینان پاجاویں کہ تہذیب نفس اسے حاصل ہو گئی ہے تب وہ بطور سفیر وغیرہ کے یورپ وغیرہ ممالک میں جاسکتا ہے مگرتہذیب ِنفس مشکل مرحلہ ہے پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھنا آسان مگر یہ مشکل۔دینی تعلیم کے لیے بہت علوم کی ضرورت نہیں ہوتی۔طہارت ِقلب اَور شَے ہے خدا ایک نور جب دل میں پیدا کردیتا ہے تو اس سے علوم خود حاصل ہوتے جاتے ہیں۔۱ ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۳ء (بوقت ِظہر) اپنے آپ کو ہر آن خدا تعالیٰ کا محتاج سمجھو شیخ فضل الٰہی صاحب سوداگر رئیس صدر بازار راولپنڈی جن کو بابو شاہ دین صاحب نے حضرت اقدس سے انٹروڈیوس کیا اور جناب محمد رمضان صاحب ٹھیکیدار جہلم اور چند دیگر اصحاب نے بیعت کی۔بعد بیعت حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذیل کی تقریر فرمائی۔مذہب یہی ہے کہ انسان خوب غور کرے اور دیکھے اور عقل سے سوچے کہ وہ ہر آن میں خدا کا محتاج ہے اور اسی کی طرف عجزسے آئے انسان کی جان پر، مال پر، آبرو پر بڑے بڑے مصائب اور حملے ہوتے ہیں لیکن سوائے خدا کے اور کوئی نجات دینے والا نہیں ہوتا اور ان مو قعوں پر ہر ایک قسم کا فلسفہ خو دبخود شکست کھا جاتا ہے جن لوگوں نے ایسے اصولوں پر قائم ہونا چاہا ہے کہ جس میں وہ خدا کی حاجت کو تسلیم نہیں کرتے۔حتی کہ’’انشاء اللہ‘‘ بھی زبان سے نکالنا ان کے نزدیک معیوب ہے مگر پھر بھی جب موت کا وقت آتا ہے تو ان کو اپنے خیالات کی حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔بات یہ ہے کہ ہر آن میں اور اپنے ہر ایک ذرّہ کے قیام کے لیے انسان کو خدا کی حاجت اور ضرورت ہے اور اگر وہ انانیت سے نکل کر غور سے دیکھے تو تجربہ سے اسے خود پتا لگ جاتا ہے کہ وہ کس قدر غلطی پہ تھا اپنے ۱البدر جلد ۲نمبر۴۵ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۵۴ ،۳۵۵