ملفوظات (جلد 5) — Page 326
حالت میں۔اگر ایک ہی پہلوہو اوردوسرا نہ ہو تو پھر اخلاق کا پتا نہیں مل سکتا۔چونکہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق مکمل کرنے تھے۔اس لیے کچھ حصہ آپ کی زندگی کا مکّی ہے اور کچھ مدنی۔مکہ کے دشمنوں کی بڑی بڑی ایذا رسانی پر صبر کا نمونہ دکھایا اور باوجود ان لوگوں کے کمال سختی سے پیش آنے کے پھر بھی آپ ان سے حلم اور بردباری سے پیش آتے رہے اور جو پیغام خدا کی طرف سے لائے تھے اس کی تبلیغ میں کوتاہی نہ کی۔پھر مدینہ میں جب آپ کو عروج حاصل ہوا اور وہی دشمن گرفتار ہو کر پیش ہوئے تو ان میں سے اکثروں کو عفو کردیا۔باوجود قوتِ انتقام پانے کے پھر انتقام نہ لیا۔مولوی عبد اللطیف صاحب کا نمونہ صبر و استقلال اب حال میں مولوی عبداللطیف صاحب شہید مرحوم کا نمونہ دیکھ لو کہ کس قدر صبر اور استقلال سے انہوں نے جان دی ہے ایک شخص کو بار بار جان جانے کا خوف دلا یا جاتا ہے اور اس سے بچنے کی امید دلائی جاتی ہے کہ اگرتو اپنے اعتقاد سے بظاہر توبہ کر دے تو تیری جان نہ لی جاوے گی مگر انہوں نے موت کو قبول کیا اور حق سے رُوگردانی پسند نہ کی۔اب دیکھو اور سوچو کہ اسے کیا کیا تسلی اور اطمینان خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہوگا کہ وہ اس طرح پر دنیا ومافیہاپر دیدہ دانستہ لات مارتا ہے اور موت کو اختیار کرتا ہے اگر وہ ذرا بھی توبہ کرتے تو خدا جانے امیرنے کیا کچھ اس کی عزّت کرنی تھی مگر انہوں نے خدا کے لیے تمام عزّتوں کو خاک میں ملایا اور جان دینی قبول کی۔کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ آخر دم تک اور سنگساری کے آخری لمحہ تک ان کو مہلت توبہ کی دی جاتی ہے اور وہ خوب جانتے تھے کہ میرے بیوی بچے ہیں لاکھ ہا روپے کی جائداد ہے دوست یار بھی ہیں ان تمام نظاروں کو پیش چشم رکھ کر اس آخری موت کی گھڑی میں بھی جان کی پروا نہ کی۔آخر ایک سروراور لذّت کی ہواان کے قلب پر چلتی تھی جس کے سامنے یہ تمام فراق کے نظارے ہیچ تھے۔اگر ان کو جبراً قتل کر دیا جاتا اور جان کے بچانے کا موقع نہ دیا جاتا تو اور بات تھی۔مجبوراً تو ایک عورت کو بھی انسان قتل کرسکتا ہے مگر ان کو بار بار موقع دیا گیا باوجود اس مہلت ملنے کے پھر موت اختیار کرنی بڑے ایمان کو چاہتی ہے۔اولیاء اللہ کی ایک خصلت ہوتی ہے کہ وہ موت کو پسند کرتے ہیں سوانہوں نے ظاہر کی۔