ملفوظات (جلد 5) — Page 25
اس توبہ کو کھیل نہ خیال کرو اور یہ نہ کرو کہ اسے یہیں چھوڑجائو بلکہ اسے ایک اما نت اللہ تعالیٰ کی خیال کرو۔توبہ کرنے والاخدا تعالیٰ کی اس کشتی میں سوارہوتا ہے جو کہ اس طوفا ن کے وقت اس کے حکم سے بنائی گئی ہے اس نے مجھے فرمایا ہے وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ اور پھریہ بھی فرمایا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ۔يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ۔جس طرح بادشاہ اپنی رعایامیں اپنے نائب کو بھیجتاہے پھر جو اس کا مطیع ہوتا ہے اسے بادشاہ کا مطیع سمجھا جاتا ہے ایسا ہی اللہ تعالیٰ بھی اپنے نائب دنیا میں بھیجتا ہے آج کی توبہ ایک بیج ہے جس کے ثمرات تمہارے تک ہی نہ ٹھہریں گے بلکہ اولاد تک بھی پہنچیں گے۔سچے دل سے توبہ کرنے والوں کے گھر رحمت سے بھرجاتے ہیں۔دنیوی لوگ اسباب پربھروسا کرتے ہیں مگراللہ تعالیٰ اس بات کے لیے مجبورنہیں ہے کہ اسباب کا محتاج ہو۔کبھی چاہتا ہے تو اپنے پیاروں کے لیے بلااسباب بھی کام کردیتا ہے اور کبھی اسباب پیدا کرکے کرتا ہے اور کسی وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ بنے بنائے اسباب کو بگاڑدیتا ہے۔غرض اپنے اعمال کو صاف کرو اور خدا تعالیٰ کا ہمیشہ ذکرکرو اورغفلت نہ کرو۔جس طرح بھاگنے والاشکارجب ذراسُست ہو جاوے تو شکاری کے قابومیں آجا تاہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کے ذکر سے غفلت کرنے والاشیطان کا شکار ہو جاتا ہے۔توبہ کو ہمیشہ زندہ رکھواور کبھی مُردہ نہ ہونے دو۔کیونکہ جس عضو سے کام لیا جاتا ہے وہی کام دے سکتا ہے اور جس کو بیکار چھوڑدیا جاوے پھر وہ ہمیشہ کے واسطے ناکا رہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح توبہ کو بھی محرک رکھوتاکہ وہ بیکار نہ ہو جاوے۔اگر تم نے سچی توبہ نہیں کی تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو پتھرپربویا جاتا ہے اور اگر وہ سچی توبہ ہے تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو عمدہ زمین میں بویا گیا ہے اور اپنے وقت پر پھل لاتا ہے۔آج کل اس توبہ میں بڑے بڑے مشکلات ہیں۔اب یہاںسے جا کر تم کو بہت کچھ سننا پڑے گا اور لوگ کیا باتیں بنائیں گے کہ تم نے ایک مجذوم، کافر، دجال وغیرہ کی بیعت کی۔ایسا کہنے والوں کے سامنے جوش ہرگز مت دکھانا۔ہم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر کے واسطے ما مور کئے گئے ہیں۔اس لیے چاہیے کہ تم ان کے لیے دعا کرو کہ خدا ان کو بھی