ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 24

خدا تعالیٰ کی یہ عادت ہرگزنہیں ہے کہ جو اس کے حضور عاجزی سے گر پڑے وہ اسے خائب وخاسر کرے اور ذلّت کی موت دیوے جو اس کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ایسی نظیر ایک بھی نہ ملے گی کہ فلاں شخص کا خدا سے سچا تعلق تھا اور پھر وہ نا مُراد رہا۔خدا تعالیٰ بندے سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشیں اس کے حضور پیش نہ کرے اورخالص ہو کر اس کی طرف جھک جاوے جو اس طرح جھکتا ہے اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور ہر ایک مشکل سے خودبخود اس کے واسطے ر اہ نکل آتی ہے جیسے کہ وہ خود وعدہ فرماتا ہے مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا وَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق:۳،۴) اس جگہ رزق سے مُراد روٹی وغیرہ نہیں بلکہ عزّت، علم وغیرہ سب باتیں جن کی انسان کوضرورت ہے اس میں داخل ہیں۔خدا تعالیٰ سے جو ذرّہ بھربھی تعلق رکھتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ (الزلزال:۸) ہمارے ملک ہندوستان میں نظام ا لدین صاحب اور قطب ا لدین صاحب اولیاء اللہ کی جو عزّت کی جاتی ہے وہ اسی لیے ہے کہ خدا سے ان کا سچا تعلق تھا اور اگر یہ نہ ہوتا تو تمام انسانوں کی طرح وہ بھی زمینوںمیں ہل چلاتے۔معمولی کام کرتے۔مگر خدا تعالیٰ کے سچے تعلق کی وجہ سے لوگ اُن کی مٹی کی بھی عزّت کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے بندوں کا حامی ہو جاتا ہے۔دشمن چاہتے ہیں کہ ان کو نیست ونا بودکریں مگر وہ روز بروزترقی پا تے ہیں اور اپنے دشمنوں پر غالب آتے جاتے ہیں جیسا کہ اس کا وعدہ ہے كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ (المجادلۃ:۲۲) یعنی خدا تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب رہیں گے اوّل اوّل جب انسان خدا تعالیٰ سے تعلق شروع کرتا ہے تو وہ سب کی نظروں میں حقیر اورذلیل ہوتا ہے مگر جوں جوں وہ تعلقات الٰہی میں ترقی کرتا ہے توںتوں اس کی شہرت زیادہ ہوتی ہے حتی کہ وہ ایک بڑابزرگ بن جاتا ہے جیسے خدا تعالیٰ بڑا ہے اسی طرح جو کوئی اس کی طرف زیادہ قدم بڑھا تا ہے وہ بھی بڑا ہو جاتا ہے حتی کہ آخرکا ر خدا کا خلیفہ بن جاتا ہے۔