ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 313

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۳ جلد پنجم اغلال اور اثقال جس قدر بوجھ اس کی گردن میں ہوتے ہیں وہ سب اٹھائے جاتے ہیں وہ لذت جو خدا کی طرف سے اس کی عبادت میں حاصل ہوتی ہے وہ اور ہے اور جو اکل و شرب اور جماع وغیرہ میں حاصل ہوتی ہے وہ اور ہے لکھا ہے کہ اگر ایک عارف دروازہ بند کر کے اپنے مولا سے راز و نیاز کر رہا ہو تو اسے اپنی عبادت اور اس راز و نیاز کے اظہار کی بڑی غیرت ہوتی ہے اور وہ ہرگز اس کا افشا پسند نہیں کرتا اگر اس وقت کوئی دروازہ کھول کر اندر چلا جاوے تو وہ ایسا ہی نادم اور پشیمان ہوتا ہے جیسے زانی زنا کرتا پکڑا جاتا ہے جب اس لذت کی حد کو انسان پہنچ جاتا ہے تو اس کا حال اور ہوتا ہے اور اسی حالت کو یاد کر کے وہ جنت میں کہے گا کہ رزقنَا مِنْ قَبْلُ (البقرۃ:۲۶) بہشتی زندگی کی بنیاد یہی دنیا ہے بعد مرنے کے جب انسان بہشت میں داخل ہوگا تو یہی کیفیت اور لذت اسے یاد آوے گی ۔ تو اسی بات کا طالب ہر ایک کو ہونا چاہیے۔ نیکی گناہوں کا چھوڑ نا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے یہ ایک ذلیل کام ہے اگر کوئی کہے کیا ہے؟ کہ میں چوری نہیں کرتا ، زنا نہیں کرتا، خون نہیں کرتا یا اور فسق و فجور نہیں کرتا تو کوئی خوبی کی بات نہیں اور نہ خدا پر یہ احسان ہے کیونکہ اگر وہ ان باتوں کا مرتکب نہیں ہوتا تو ان کے بدنتائج سے بھی وہی بچا ہوا ہے۔ کسی کو اس سے کیا؟ اگر چوری کرتا گرفتار ہوتا سزا پاتا۔ اس قسم کی نیکی کو نیکی نہیں کہا کرتے ۔ ایک شخص کا ذکر ہے کہ ایک کے ہاں مہمان گیا بے چارے میزبان نے بہت تواضع کی تو مہمان آگے سے کہنے لگا کہ حضرت آپ کا کوئی احسان مجھ پر نہیں ہے احسان تو میرا آپ پر ہے کہ آپ اتنی دفعہ باہر آتے جاتے ہیں اور کھانا وغیرہ طیار کروانے اور لانے میں دیر لگتی ہے۔ میں پیچھے اکیلا با اختیار ہوتا ہوں چاہوں تو گھر کو آگ لگا دوں یا آپ کا اور نقصان کر چھوڑوں تو اس میں آپ کا کس قدر نقصان ہو سکتا ہے۔ تو یہ میرا اختیار ہے کہ میں کچھ نہیں کرتا۔ ایسا خیال ایک بد آدمی کا ہوتا ہے کہ وہ بدی سے بیچ کر خدا پر احسان کرتا ہے اس لیے ہمارے نزدیک ان تمام بدیوں سے بچنا کوئی نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی یہ ہے کہ خدا سے پاک تعلقات قائم کئے جاویں اور اس کی محبت ذاتی رگ وریشہ میں سرایت کر جاوے