ملفوظات (جلد 5) — Page 313
اغلال اور اثقال جس قدر بوجھ اس کی گردن میں ہوتے ہیں وہ سب اٹھائے جاتے ہیں وہ لذّت جو خدا کی طرف سے اس کی عبادت میں حاصل ہوتی ہے وہ اَور ہے اور جو اکل وشرب اور جماع وغیرہ میں حاصل ہوتی ہے وہ اَور ہے لکھا ہے کہ اگر ایک عارف دروازہ بند کرکے اپنے مولا سے راز ونیاز کر رہا ہو تو اسے اپنی عبادت اور اس راز ونیاز کے اظہار کی بڑی غیرت ہوتی ہے اور وہ ہرگز اس کا افشاپسند نہیں کرتا اگر اس وقت کوئی دروازہ کھول کر اندر چلا جاوے تو وہ ایسا ہی نادم اور پشیمان ہوتا ہے جیسے زانی زناکرتا پکڑا جاتا ہے جب اس لذّت کی حد کو انسان پہنچ جاتا ہے تواس کا حال اَور ہوتا ہے اور اسی حالت کو یاد کرکے وہ جنّت میں کہے گا کہ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ(البقرۃ:۲۶) بہشتی زندگی کی بنیاد یہی دنیا ہے بعد مَرنے کے جب انسان بہشت میں داخل ہوگا تو یہی کیفیت اور لذّت اسے یاد آوےگی۔تو اسی بات کا طالب ہر ایک کو ہونا چاہیے۔نیکی کیا ہے؟ گناہوں کا چھوڑنا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے یہ ایک ذلیل کام ہے اگر کوئی کہے کہ میں چوری نہیں کرتا، زنا نہیں کرتا، خون نہیں کرتا یا اور فسق وفجور نہیں کرتا تو کوئی خوبی کی بات نہیں اور نہ خدا پر یہ احسان ہے کیونکہ اگر وہ ان باتوں کا مرتکب نہیں ہوتا تو ان کے بدنتائج سے بھی وہی بچا ہوا ہے۔کسی کو اس سے کیا؟ اگر چوری کرتا گرفتار ہوتا سزا پاتا۔اس قسم کی نیکی کو نیکی نہیں کہا کرتے۔ایک شخص کا ذکر ہے کہ ایک کے ہاں مہمان گیا بےچارے میزبان نے بہت تواضع کی تو مہمان آگے سے کہنے لگا کہ حضرت آپ کا کوئی احسان مجھ پر نہیں ہے احسان تو میرا آپ پر ہے کہ آپ اتنی دفعہ باہر آتے جاتے ہیں اور کھانا وغیرہ طیار کروانے اور لانے میں دیر لگتی ہے۔میں پیچھے اکیلا بااختیار ہوتا ہوں چاہوں تو گھر کو آگ لگا دوں یا آپ کا اور نقصان کر چھوڑوں تو اس میں آپ کا کس قدر نقصان ہوسکتا ہے۔تو یہ میرا اختیار ہے کہ میں کچھ نہیں کرتا۔ایسا خیال ایک بد آدمی کا ہوتا ہے کہ وہ بدی سے بچ کر خدا پر احسان کرتا ہے اس لیے ہمارے نزدیک ان تمام بدیوں سے بچناکوئی نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی یہ ہے کہ خدا سے پاک تعلقات قائم کئے جاویں اور اس کی محبت ذاتی رگ وریشہ میں سرایت کر جاوے