ملفوظات (جلد 5) — Page 314
جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى(النحل:۹۱) خدا کے ساتھ عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یا دکرکے اس کی فرماںبرداری کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائو اور اسے پہچانواوراس پر ترقی کرنا چاہو تو درجہ احسان کا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کی ذات پرایسا یقین کر لیناکہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے اور جن لوگوں نے تم سے سلوک نہیں کیا ان سے سلوک کرنا۔اور اگر اس سے بڑھ کر سلوک چاہو تو ایک اور درجہ نیکی کا یہ ہے کہ خدا کی محبت طبعی محبت سے کرو۔نہ بہشت کی طمع نہ دوزخ کا خوف ہو۔بلکہ اگر فرض کیا جاوے کہ نہ بہشت ہے نہ دوزخ ہے تب بھی جوشِ محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔ایسی محبت جب خدا سے ہو تو اس میں ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور کوئی فتور واقع نہیں ہوتا اور مخلوقِ خدا سے ایسے پیش آؤکہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو۔یہ درجہ سب سے بڑھ کر ہے کیونکہ احسان میں ایک مادہ خود نمائی کا ہوتا ہے اور اگر کوئی احسان فراموشی کرتا ہو تو محسن جھٹ کہہ اٹھتا ہے کہ میں نے تیرے ساتھ فلاں احسان کئے لیکن طبعی محبت جو کہ ماں کو بچے کے ساتھ ہوتی ہے اس میں کوئی خودنمائی نہیں ہوتی بلکہ اگر ایک بادشاہ ماں کو یہ حکم دیوے کہ تو اس بچہ کو اگر مار بھی ڈالے تو تجھ سے کوئی باز پُرس نہ ہوگی تو وہ کبھی یہ بات سننی گوارانہ کرے گی اور اس بادشاہ کو گالی دے گی۔حالانکہ اسے علم بھی ہو کہ اس کے جوان ہونے تک میں نے مَر جانا ہے مگر پھر بھی محبت ذاتی کی وجہ سے وہ بچہ کی پرورش کو ترک نہ کرے گی۔اکثر دفعہ ماں باپ بوڑھے ہوتے ہیں اور ان کو اولاد ہوتی ہے تو ان کی کوئی امید بظاہر اولاد سے فائدہ اٹھانے کی نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے پھر بھی وہ اس سے محبت اور پرورش کرتے ہیں۔یہ ایک طبعی اَمر ہوتا ہے جو محبت اس درجہ تک پہنچ جاوے اسی کا اشارہ اِيْتَآئِ ذِي الْقُرْبٰى(النحل:۹۱) میں کیا گیا ہے کہ اس قسم کی محبت خدا کے ساتھ ہونی چاہیے۔نہ مراتب کی خواہش نہ ذلّت کا ڈر۔جیسے آیت لَا نُرِيْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا(الدھر:۱۰)سے ظاہر ہے غرضیکہ یہ باتیں ہیں جن کو یاد رکھنا چاہیے۔۱ ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ مورخہ ۱۶؍ نومبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۳۳تا۳۳۵