ملفوظات (جلد 5) — Page 312
جاوے گا یہ سب غلط خیال ہیں اگر جنّت کی یہی نعمت ہے جو ان کو دنیا میں ملتی رہی اور آخرت میں بھی ملے گی تو مومنوں اور کافروں میں کیا فر ق رہا؟ ان سب چیزوں کے حاصل کرنے میں تو کافر اور مشرک بھی شریک ہیں پھر اس میں بہشت کی خصوصیت کیا ہے؟ لیکن قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ بہشت کی نعمتیں ایسی چیزیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں، نہ کسی کان نے سنیں اور نہ دلوں میں گذریں اور ہم دنیا کی نعمتوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ سب آنکھوں نے دیکھیں، کانوں نے سنیں اور دل میں گذریـ ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ ان جنتی نعمتوں کا تمام نقشہ جسمانی رنگ پر ظاہر کیا گیا ہے مگر وہ اصل میں اَور امور ہیں ورنہ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ(البقرۃ:۲۶) کے کیا معنے ہوں گے اس کے وہی معنے ہیں جو کہ مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى(بنی اسـرآءیل:۷۳) کے ہیں۔دوسرے مقام پر قرآن شریف فر ماتا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرحـمٰن:۴۷) جو شخص خدا تعالیٰ سے خائف ہے اور اس کی عظمت اور جلال کے مرتبہ سے ہرا ساںہے اس کے لیے دو بہشت ہیں ایک یہی دنیا اور دوسری آخرت۔جو شخص سچے اور خالص دل سے نقشِ ہستی کو اس کی راہ میں مٹا کر اس کے متلاشی ہوتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں تو اس میں ان کو ایک قسم کی لذّت شروع ہو جاتی ہے اور ان کو وہ روحانی غذائیں ملتی ہیں جو روح کو روشن کرتی اور خدا کی معرفت کو بڑھاتی ہیں ایک جگہ پر شیخ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو اس کی نماز کا ثواب مارا جاتا ہے۔اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اس کی نماز اب بارگاہ ِالٰہی میں قبول نہیں ہوتی بلکہ یہ معنے ہیں کہ چونکہ اب اسے لذّت شروع ہو گئی ہے تو جو اجراس کا عنداللہ تھا وہ اب اسے دنیا میں ملنا شروع ہو گیا ہے جیسے ایک شخص اگر دودھ میں برف اور خوشبو وغیرہ ڈال کر پیتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اسے ثواب ملے گا کیونکہ لذّت تو اس نے اس کی یہیں حاصل کر لی۔خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور کسی عمل کی قبولیت اَور شَے ہے اور ثواب اَور شَے ہے۔ہر ایک لفظ اپنے اپنے مقام کے لیے چسپاں ہوتا ہے اسی لحاظ سے شیخ عبدالقادر صاحب نے فرمایا کہ عارف کی نماز کا ثواب مارا جاتا ہے۔جو اہل حال ہوتا ہے وہ اپنی جگہ پوری بہشت میں ہوتا ہے اور جب انسان کو خدا سے پوراتعلق ہو جاتا ہے تو