ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 23 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 23

کو جائز قرار دیتا ہے جو کہ سچے دل سے توبہ کرنے والا کرتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس قسم کا اقرار نہ ہوتا تو پھر توبہ کا منظورہو ناایک مشکل اَمر تھا۔سچے دل سے جو اقرار کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر خدا تعالیٰ بھی اپنے تمام وعدے پورے کرتا ہے جو اُس نے توبہ کرنے والوںکے ساتھ کئے ہیں اور اسی وقت سے ایک نور کی تجلّی اس کے دل میں شروع ہو جاتی ہے۔جب انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ میں تمام گُناہوں سے بچوں گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ مجھے اپنے بھائیوں، قریبی رشتہ داروں اور سب دوستوں سے قطع تعلّق ہی کرنا پڑے مگر میں خدا تعالیٰ کو سب سے مقّدم رکھونگا اور اسی کے لئے اپنے تعلقات چھوڑتا ہوں۔ایسے لوگوں پر خدا کا فضل ہوتا ہے کیونکہ انہی کی توبہ دلی توبہ ہوتی ہے۔پھر جو لوگ دل سے دعا کرتے ہیں۔خدا ان پر رحم کرتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ آسمان، زمین اور سب اشیاء کا خالق ہے ویسے ہی وہ توبہ کا بھی خالق ہے اور اگر اس نے توبہ کو قبول کرنا نہ ہوتا تو وہ اسے پیداہی نہ کرتا۔گناہ سے توبہ کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں۔سچی توبہ کرنے والا خدا سے بڑے بڑے انعام پاتا ہے۔یہ اولیا، قطب اور غوث کے مراتب اسی واسطے لوگوں کو ملے ہیں کہ وہ توبہ کرنے والے تھے اور خدا تعالیٰ سے ان کا پاک تعلق تھا اس واسطے ہرگز نہیں ہے کہ وہ منطق، فلسفہ اور دیگر علوم طبعیہ وغیرہ سے ماہر تھے۔جو لوگ خدا تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہیں وہ ان بندوں میں داخل ہو جاتے ہیں جن پر اللہ تعالیٰ رحم کرتا ہے۔اس شرط سے دین کو کبھی قبول نہ کرنا چاہیے کہ میں مالدار ہو جائوں گا۔مجھے فلاں عہدہ مل جاوے گا۔یاد رکھو کہ شرطی ایمان لانے والے سے خدا بیزار ہے۔بعض وقت مصلحت الٰہی یہی ہوتی ہے کہ دنیا میں انسان کی کوئی مُراد حاصل نہیں ہوتی۔طرح طرح کے آفات، بلائیں، بیماریاں اور نامُرادیاں لاحق حال ہوتی ہیں مگر ان سے گھبرانا نہ چاہیے۔موت ہر ایک کے واسطے کھڑی ہے اگر بادشاہ ہو جاوے گا تو کیا موت سے بچ جاوے گا؟ غریبی میں بھی مَرنا ہے۔بادشاہی میں بھی مَرنا ہے اس لیے سچی توبہ کرنے والے کو اپنے ارادوں میں دنیا کی خواہش نہ ملانی چاہیے۔