ملفوظات (جلد 5) — Page 266
بعض کافر ایسے ہیں کہ ایسے پہاڑوں میں رہتے ہیں کہ وہاں اب تک رسالت کی خبر نہیں اسلام کی خبر نہیں تو ان کا کفرابو جہل والا کفر تو نہ ہوگا جس حال میں ایک نہایت درجے کا شریر اور مکذّب باوجود علم کے پھر انکار کرتا ہے۔تو اس کے عذاب اور دوسرے کے عذاب میں جو اس قدر شرارت نہیں کرتے ضرور فرق ہونا چاہیے، لیکن ان طبقات عذاب کی کہ( یہ کس قدر ہیں اور کس طرح سے ان کی تقسیم ہے) اس کی ہمیں خبر نہیں اس کا علم خدا کو ہے ہاں چونکہ خدا پر ظلم منسوب نہیں ہوسکتا اس لیے طبقات کا ہونا ضروری ہے۔ہمارا مذہب احادیث کی نسبت ذکر ہوا اس پر حضرت اقدس نے اپنا مذہب بتلا یا جو کہ اکثر دفعہ شائع ہو چکا ہے کہ سب سے مقدم قرآن ہے اس کے بعد سنّت اس کے بعد حدیث۔اور حدیث کی نسبت فرمایا کہ اگر ضعیف سے ضعیف حدیث بھی بشرطیکہ وہ قرآن کے معارض نہ ہو تو اس پر ضرور عمل کرنا چاہیے۔کیونکہ جس حال میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جاتی ہے تو یہ ادب اور محبت کا تقاضا ہونا چاہیے کہ اس پر عملدرآمد ہو اور ہمارا یہ مدعا ہرگز نہیں کہ ائمہ دین کی ان کوششوں کو جو محض دین کے لیے انہوں نے کیں ضائع کر دیویں۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ جس حال میں کوئی بات ان کی یا کوئی حدیث ہی باوجود تا ویلات کے بھی قرآن شریف سے مطا بقت نہ کھا وے تو پھر قرآن کو مقدم رکھ کر اسے ترک کر دیا جاوے کیونکہ جب ضدین جمع ہوں گی تو ایک کو تو ضرور ترک کرنا پڑے گا اس صورت میں تم قرآن کو ترک مت کرو اور اس کے غیر کو ترک کردو۔مثلاً ایک مسئلہ وفات ِمسیح کا ہی ہے جس حال میں قرآن شریف سے وفات ثابت ہے تو اب ہم اس دوسری حدیث کو جو اس کے مخالف ہو یا کسی کے قول کو کیوں ما نیں؟ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ(المائدۃ:۱۱۸) میں دو باتیں خدا تعالیٰ نے بیان کی ہیں ایک تو مسیحؑ کی وفات دوسرے اس کے دنیا میں آنے کی نفی کی ہے کیونکہ اگر وہ قیامت سے پیشتر دنیا میں دوبارہ آچکا ہے تو اس کا كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ کہنا غلط ہے اس صورت میں یا تو