ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 265

شرارت میں حد سے نہیں بڑھتے مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آخرت میں بھی ان کو عذاب نہ ہوگا دنیاوی عذاب کے لیے ضروری ہے کہ انسان تکذیب ِمرسل، استہزاء اور ٹھٹھے میں اور ایذا میں حد سے بڑھے اور خدا کی نظر میں ان کا فساد، فسق اور ظلم اور آزار نہایت درجہ پر پہنچ گیا ہو۔اگر ایک کافر مسکین صورت رہے گا اور اس کو خوف دامنگیر ہوگا تو گو وہ اپنی مذہبی ضلالت کی وجہ سے جہنم کے لائق ہے مگر عذاب دنیوی اس پر نازل نہ ہوگا۔اگر کفار مکہ چپ چا پ اور اخلاق سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش آتے تو یہ عذاب ان کو جو ملا ہرگز نہ ملتا ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا (بنی اسـرآءیل:۱۷) کہ جب کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ارادہ الٰہی ہوتا ہے تو اس وقت ضرور وہاں کے لوگ بدکاریوں میں حد اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔پھر ایک اور جگہ ہے وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ (القصص:۶۰) جس سے ثابت ہے کہ کوئی بستی نہیں ہلاک ہوتی مگر اس حالت میں کہ جب اس کے اہل ظلم پر کمر بستہ ہوں۔فسق کے معنے حد سے تجاوز کرنے کے ہیں۔اب دیکھو ہزاروں ہندو ہیں مگر ما نتے نہیں انکار کرتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ سب کو چھوڑ کر لیکھرام کے پیٹ میں چھری چلی؟ اس کی وجہ اس کی زبان تھی کہ جب اس نے اسے بیباکانہ کھولا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سبّ وشتم کرنے میں حد سے بڑھ گیا اور ایک مدّ ِمقابل بن کر خود نشان طلب کیا تو وہی اس کی زبان چھری بن کر اس کی جان کی دشمن ہو گئی۔غرضیکہ اصل گھر عذاب کا آخرت ہے اور دنیا میں عذاب شوخی، شرارت میں حد سے تجاوز کرنے سے آتا ہے ہندوؤں میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ پرمیشر اور عت کا بیر ( دشمنی ) ہے۔عت کے معنے حد درجہ تک ایک بات کو پہنچا دینا (عت کا لفظ عربی ہے جیسے قرآن شریف میں عُتُوٍّ ہے )۔تفاوت وطبقات ِعذاب مَیں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ عذاب یکساں سب کو ہو کفر سب ایک جیسے نہیں ہوتے تو عذاب کیسے ایک جیسا سب کو ہو