ملفوظات (جلد 5) — Page 253
معلوم کہ باقی کا رطب ویابس کہاں سے آیا۔ہاں اس پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ پھر آیت وَ لْيَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِيْلِ (المآئدۃ:۴۸) میں جو لفظ انجیل عام ہے اس سے کیا مُراد ہے وہاں یہ بیان نہیں ہے کہ انجیل کا وہ حصہ جس کا مصدق قرآن ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں الانـجیل سے مُراد اصل انجیل اور توریت ہے جو قرآن کریم میں درج ہو چکیں۔اگر یہ نہ مانا جاوے تو پھر بتلایا جاوے کہ اصلی انجیل کون سی ہے کیونکہ آج کل کی مروّجہ انا جیل تو اصل ہو نہیں سکتیں ان کی اصلیت کس کو معلوم ہے اور یہ بھی خود عیسائی ما نتے ہیں کہ اس کا فلاں حصہ الحاقی ہے۔پھر ایک اور بات دیکھنے والی ہے کہ انجیل میں سے عیسٰیؑ کی موت اور بعد کے حالات اور توریت میں موسٰی کی موت کا حال درج ہے تو کیا اب ان کتابوں کا نزول دونوں نبیوں کی وفات کے بعد تک ہوتا رہا؟ اس سے ثابت ہے کہ موجودہ کتب اصل کتب نہیں ہیں اور نہ اب ان کا میسر آنا ممکن ہے۔۱ ۱۶؍ اگست ۱۹۰۳ء (دربارِ شام) سوال۔اگر ایسی خبر کوئی مشہور ہو کہ مرزا جی فوت ہو گئے ہیں تو کیا اس الہام کی بنا پر جو کہ حضور کو ۸۰ سال کے قریب عمر کے لیے ہوا ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ نہیں یہ خبر بالکل جھوٹی ہے؟ جواب فرمایا کہ ہاں تم کہہ سکتے ہو کیونکہ یہ الہام تو کتابوں اور اشتہاروں میں درج ہو چکاہے۔۲ ۱۷؍اگست ۱۹۰۳ء (سفرگورداسپور) سفر سے پہلے نمازوں کا جمع کرنا آج ظہر اورعصر کی نماز جمع کرکے حضرت اقدس گورداسپور کے لیے روانہ ہوئے آپ کے ہمراہ ۱البدرجلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۸؍اگست۱۹۰۳صفحہ۲۴۹،۲۵۰ ۲البدرجلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۸؍اگست۱۹۰۳ءصفحہ۲۵۰