ملفوظات (جلد 5) — Page 252
جواب حضرت مرزا صاحب تحریری دیں گے اور اس جواب کے بعد اگر گل محمد صاحب کی تشفی نہ ہو تو اسی سوال کے متعلق کچھ اور دریافت کرسکتے ہیں جس کا جواب حضرت صاحب دیں گے اور یہی سلسلہ چار دن تک رہے گا۔اس سوال و جواب کے شرائط یہ ہیں کہ ہر روز پانچ گھنٹہ اس پر خرچ ہوں گے یعنی ہر ایک فریق کے لیے اڑھائی گھنٹے اور جس فریق کو ایک دن میں اڑھائی گھنٹے سے کم وقت ملنے کا موقع ملے وہ اتنا ہی وقت دوسرے دن لے سکے گا لیکن چوتھے دن کی شام کو بہرحال یہ اَمر ختم ہوگا سوائے اس کے کہ ان چار دنوں کے اندر کوئی فر یق کسی وجہ سے جو معمولی حوائج اور ضروریات کے علاوہ ہو پورا وقت نہ دے سکے تو اس کے لیے ضروری ہوگا کہ اس وقت کو چار دن کے بعد پورا کرے اور اگر چار دن کے اندر ہی مثلاً پہلے ہی دن حضرت صاحب فرما دیں کہ جو ہم نے کہنا تھا کہہ چکے اور اب زیادہ اور کچھ نہیں کہنا توگل محمد صاحب کو اختیار ہوگا کہ اسی وقت چلے جاویں۔گل محمد صاحب کی طرف سے صرف ایک ہی سوال پیش ہوگا خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو اور فر یقین کو اختیار نہ ہوگا کہ ایک دوسرے کے وقت میں کسی کی بات کو قطع کریں۔(دستخط حضرت میرزا غلام احمد صاحب) دوسرے کاغذ پر ہوئے ( گل محمد ) ۱۵؍اگست ۱۹۰۳ ء (دربارِ شام) لعنتِ خدا سے مُراد فرمایا۔خدا کے نزدیک لعنت وہ نہیں ہوتی جو کہ عام لوگوں کے نزدیک ہوتی ہے بلکہ خدا کی لعنت سے مُراد دنیا اور آخرت کی لعنت ہے (یعنی ہر)دو کی ذلّت ہے۔قرآن کس طرح سے مصدِّق انجیل ہے؟ فرمایا کہقرآن شریف انجیل کی تصدیق قول سے نہیں کرتا بلکہ فعل سے کرتا ہے کیونکہ جو حصہ انجیل کی تعلیم کا قرآن کے اندر شامل ہے اس پر قرآن نے عملدرآمد کرو اکے دکھلا دیا ہے اور اسی لیے ہم اسی حصہ انجیل کی تصدیق کرسکتے ہیں جس کی قرآن کریم نے تصدیق کی۔ہمیں کیا