ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 254

صاحبزادہ میاں بشیر الدین محمود بھی تھے۔سٹیشن۱ کے قریب جو سرائے تھی اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نزول فرمایا۔مغرب اور عشاء کی نمازیں یہاں جمع کرکے پڑھی گئیں۔لَكُمْ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْۤ اَنْفُسُكُمْ۲ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام نماز ادا فرما رہے تھے اور آپ کی طبیعت نا سا زتھی کہ نمازکے اندر طبیعت میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اگر انگور ملیں تو وہ کھائے جاویں مگر چونکہ نزدیک و دور ان کا ملنا محال تھا اس لیے کیا ہوسکتا تھا کہ اس اثنامیں ایک صاحب جناب حکیم محمد حسین صاحب ساکن بلب گڑھ ضلع دہلی جو کہ حضرت اقدس کے مخلص خدا م سے ہیں قادیان سے واپس ہو کر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے ایک ٹوکر ی انگوروں اور دوسرے ثمرات مثل انار وغیرہ کی حضرت کی خدمت میں پیش کی اور بیان کیا کہ مجھے علم نہ تھا کہ حضور بٹا لہ تشریف لائے ہیں۔میں قادیان چلا گیا وہاں معلوم ہوا تو اسی وقت میں واپس ہوا اور یہ پھل حضور کے لیے ہیں۔۳ ۱۸؍ اگست ۱۹۰۳ء ایک رؤیا فجر کو اٹھ کر حضرت اقدس نے نماز باجماعت ادا کی چونکہ سفر کی تکان تھی اور رات کو بباعث سفر کے نیند بھی پوری نہ آئی تھی اس لیے بعض جانثار اصحاب نے درخواست کی کہ حضور علیحدہ ایک کمرہ میں آرام فرمالیں تاکہ بے خوابی سے طبیعت ناساز نہ ہو۔اس لیے آپ نے تھوڑی دیر آرام فرمایا اور پھر اٹھ کر فرش پر جلو ہ افروز ہوئے اور یہ رؤیا بیان کی کہ ایک خوان میرے آگے پیش ہوا ہے اس میں فا لودہ معلوم ہوتا ہے اور کچھ فیر نی بھی رکا بیوں میں ہے۔میں نے کہا کہ چمچہ لا ؤ تو کسی نے کہا کہ ہر ایک کھانا عمدہ نہیں ہوتا سوائے فیرنی اور فا لودہ کے۔۱بٹالہ کا اسٹیشن مُراد ہے۔(مرتّب) ۲یہ ڈائری نویس کے نوٹ معلوم ہوتے ہیں۔واللہ اعلم (مرتّب) ۳ البدرجلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۸؍اگست۱۹۰۳ءصفحہ۲۵۰،۲۵۱