ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 243

اس سلسلہ میں رہنے کے لائق نہیں پا تا ان کو الگ کر دیتا ہے وہ ایمان کے بعد مرتد اس لیے ہوتے ہیں کہ قیامت کو جب وہ اپنے رفیق کو جنّت میں دیکھیں تو ان کی حسرت اور بھی بڑھے۔اس وقت وہ کہیں گے کا ش ہم اپنے رفیق کے ساتھ ہوتے۔اپنی ہی کمزوری ہے جو ذرا ذرا سی بات پر یہ لوگ گھبراجاتے ہیں ورنہ اگر اللہ تعالیٰ کو اپنا رازق سمجھ لیں اور اس پر ایمان رکھیں تو ایک جرأت اور دلیری پیدا ہو جاتی ہے پس ساری باتوں کا خلاصہ یہی ہے کہ صبر اور استقلال سے کام لینا چاہیے اور خدا تعالیٰ سے ثبات قدم کی دعا مانگتے رہو۔کسی کا مرتد ہو جاناکچھ میرے سلسلہ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ منہاج نبوت کے ساتھ یہ بات لازمی ہے۔نبیوں کے سلسلے میں یہ نظیریں ملتی ہیں۔ہم کو کوئی افسوس نہیں البتہ ایسے لوگوں پر رحم آتا ہے کیونکہ ان کو دو چند عذاب ہوگا اس لیے کہ وہ ایمان لا کر مرتد ہوئے اور پھر بہشت کے پاس پہنچ کرواپس ہوئے یہ حسرت کا عذاب ہوگا۔مشکلات سے مت ڈرو خدا کی راہ میں ہر دکھ اور مصیبت اور بے عزّتی اٹھانے کے لیے طیار رہو تا خدا تعالیٰ تمہارے مصائب کو دور کرے اور تمہاری آبرو کا خود محافظ ہو۔مومن وہی ہوتا ہے جو خدا کے ساتھ وفا دار ہوتا ہے جب ایمان لے آیا پھر کسی کی دھمکی کی کیا پروا ہے تم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے اور یہ اقرار کر چکے ہو جب انسان خدا کے لیے وطن، احباب اور ساری آسائشوں کو چھوڑ تا ہے وہ اس کے لیے سب کچھ مہیا کرتا ہے اب چاہیے کہ صادقوں کی طرح ثابت قدم رہے کیونکہ خدا تعالیٰ صادق کا ساتھ دیتا ہے اور اس کو بڑے بڑے درجے عطا کرتا ہے خدائے تعالیٰ اس وقت صادقوں کی جماعت طیار کر رہا ہے جو صادق نہیں وہ آج نہیں کل چلا جائے گا اور اس سلسلہ سے الگ ہو کر رہے گا مگر صادق کو خدا ضائع نہیں کرے گا۔۱،۲ ۱ البدر میں مزید یہ بھی لکھا ہے۔’’مخالفوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ جان بوجھ کر دشمنی کرتے ہیں اور حق کے خلاف کرتے ہیں جماعت کے امام کو تو مومن ہونا چاہیے اور یہ الٹے مکفر ہیں پس یہ کیسے مستحق ہیں کہ امام بنیں۔اگر یہ جائز ہوتا کہ (بقیہ اگلے صفحہ پر) ۲الحکم جلد ۷ نمبر ۳۱ مورخہ ۲۴ ؍اگست ۱۹۰۳ءصفحہ ۲تا ۴