ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 244

۳؍ اگست ۱۹۰۳ء (دربارِ شام) دعا کے اثر اور قبولیت کو توجہ کے ساتھ تعلق ہے امر یکہ سے جناب مفتی محمدصادق صاحب کے ذریعہ ایک ڈاکٹرکی بیوی نے اپنے کسی عارضہ کے لیے دعا کی درخواست کی تھی آپ نے فرمایا کہ اس کو جواب میں لکھا جاوے کہ اس میں شک نہیں کہ دعاؤں کی قبولیت پر ہمارا ایمان ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے قبول کرنے کا وعدہ بھی فرمایا ہے مگر دعاؤں کے اثر اور قبولیت کو توجہ کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے اور پھر حقوق کے لحاظ سے دعا کے لیے جوش پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا حق سب پر غالب ہے اس وقت دنیا میں شرک پھیلا ہوا ہے اور ایک عاجز انسان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا جاتا ہے اس لیے فطرتی طور پر ہماری توجہ اس طرف غالب ہو رہی ہے کہ دنیا کو اس شرک سے نجات ملے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت قائم ہو اس کے سوا دوسری طرف ہم توجہ کر ہی نہیں سکتے۔اور یہ بات ہمارے مقاصد اور کام سے دور ہے کہ اس کو چھوڑ کر دوسری طرف توجہ کریں بلکہ اس میں ایک قسم کی معصیت کا خطرہ ہوتا ہے۔ہاں یہ میرا ایمان ہے کہ بیماروں یا مصیبت زدوں کے لیے توجہ کی جاوے تو اس کا اثر ضرور ہوتا ہے بلکہ ایک وقت یہ اَمر بطور نشان کے بھی مخالفوں کے سامنے پیش کیا گیا اور کوئی مقابلہ میں نہ آیا اس وقت میری ساری توجہ اسی ایک اَمر کی طرف ہو رہی ہے کہ یہ مخلوق پرستی دور ہو اور صلیب ٹوٹ جاوے اس لیے ہر کام کی طرف اس وقت میں توجہ نہیں کرسکتا۔خدا نے مجھے اسی طرف متوجہ کر دیا ہے کہ یہ شرک جو پھیلا ہوا ہے اور حضرت عیسٰیؑ کو خدا بنایا گیا ہے اس کو نیست ونا بود کر دیا جاوے۔یہ جوش سمندر کی طرح میرے دل میں ہے اسی لیے ڈوئی کو لکھا ہے کہ وہ مقابلہ کے لیے نکلے پس تم صبر کرو (بقیہ حاشیہ )مسلمانوں کی نماز کا امام کافر و منافق ہو تو پھر صحابہ کرام نے کیوں مخالفوں کے پیچھے نماز نہ پڑھی۔جس حال میںیہ لوگ ہمیں نہیں مانتے تو پھر ہمارے مکفّر و مکذّب ہی ہیں۔خواہ کہیں خواہ نہ کہیں۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۵ )