ملفوظات (جلد 5) — Page 242
کوئی نہ کوئی ابتلا آوے تاکہ اللہ تعالیٰ سچے اور مستقل مزاجوں میں امتیاز کر دے اور صبر کرنے والوں کے مدارج میں ترقی ہو۔ابتلا کا آنا بہت ضروری ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت:۳) کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتناکہنے پر ہی چھوڑ دئیے جاویں کہ ہم ایمان لائے اور ان پر کوئی ابتلا نہ آوے ایسا کبھی نہیں ہوتا خدا تعالیٰ کو منظور ہوتا ہے کہ وہ غداروں اور کچوں کو الگ کر دے پس ایمان کے بعد ضروری ہے کہ انسان دکھ اٹھاوے بغیر اس کے ایمان کا کچھ مزا ہی نہیں ملتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو کیا کیا مشکلات پیش آئیں اور انہوں نے کیا کیا دکھ اٹھائے۔آخر ان کے صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے بڑے مدارج اور مراتب عالیہ عطا کئے انسان جلد بازی کرتا ہے اور ابتلاآتاہے تواس کو دیکھ کر گھبرا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نہ دنیا ہی رہتی ہے۱ اور نہ دین ہی رہتا ہے مگر جو صبر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور ان پر انعام واکرام کرتا ہے۔اس لیے کسی ابتلا پر گھبرا نا نہیں چاہیے ابتلا مومن کو اللہ تعالیٰ کے اور بھی قریب کر دیتا ہے اور اس کی وفاداری کو مستحکم بنا تاہے لیکن کچے اور غدارکو الگ کر دیتا ہے۔ایک شخص نے ذکر کیا کہ میرا ایک ساتھی تھا مگر اسے جماعت میں داخل ہونے کے بعد کچھ تکالیف پہنچیں تو وہ الگ ہوگیا۔فرمایا۔تم شکر کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اس ابتلا سے بچا لیا۔ایک وہ زمانہ تھا کہ تلواروں سے ڈرایا جاتا تھا اور وہ لوگ اس کے مقابلہ پر کیا کرتے تھے۔خدائے تعالیٰ سے دعائیں مانگتے اور کہتے رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ(البقرۃ:۲۵۱) مگر آج کل تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ تلوار سے نہیں ڈرا یا جاتا۔اصل یہ ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ ۱ البدر میں یہ عبارت یوں ہے۔’’انسان چونکہ جلد باز ہوتا ہے اس لیے خدا کے ابتلا سے وہ گھبرا جاتا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ صبر کے کیا کیا ثمرات ہیں جو اسے ملنے والے ہیں اس لیے صبر کرنا بہت ضروری ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۵ )