ملفوظات (جلد 5) — Page 241
کچھ اس کے لیے جائز ہو جاتا ہے؟ پھر آپ ہی جواب دیا ہے کہ یہ بات نہیں کہ وہ اباحتی ہو جاتا ہے بلکہ بات اصل یہ ہے کہ عبادت کے اثقال اس سے دور ہو جاتے ہیں اور پھر تکلّف اور تصنّع سے کوئی عبادت وہ نہیں کرتا بلکہ عبادت ایک شیریں اور لذیذ غذا کی طرح ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کی نافر مانی اور مخالفت اس سے ہوسکتی ہی نہیں اور خدا تعالیٰ کا ذکر اس کے لیے لذّت بخش اور آرام دہ ہوتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں کہا جاتا ہے۔اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ (حٰمٓ السجدۃ:۴۱) اس کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ نواہی کی اجازت ہو جاتی ہے۔نہیں بلکہ وہ خود ہی نہیں کرسکتا اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی خصی ہو اور اس کو کہا جاوے کہ تو جو مرضی ہے کر وہ کیا کرسکتا ہے؟ اس سے فسق وفجور مُراد لیناکمال درجہ کی بے حیائی اور حماقت ہے یہ تو اعلیٰ درجہ کا مقام ہے جہاں کشف ِحقائق ہوتا ہے۔صوفی کہتے ہیں اسی کے کمال پر الہام ہوتا ہے اس کی رضااللہ تعالیٰ کی رضا ہو جاتی ہے اس وقت اسے یہ حکم ملتا ہے۔پس اثقالِ عبادت اس سے دور ہو کر عبادت اس کے لیے غذاشیریں کا کام دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ هٰذَا الَّذِيْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ(البقرۃ:۲۶ ) فرمایا گیا ہے۔گناہ سے نجات کیسے ہو؟ فرمایا۔گناہ سے نجات محض خدا تعالیٰ کے فضل اور تصرّف سے ملتی ہے جب وہ تصرّف کرتا ہے اور دل میں وعظ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر ایک نئی قوت انسان کو ملتی ہے جو اس کے دل کو گناہ سے نفرت دلاتی ہے اور نیکیوں کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ایمان کے لئے ابتلا ضروری شَے ہے ایک شخص نے اپنی تکالیف اور ابتلاؤں کا ذکر کیا۔فرمایا۔جب اللہ تعالیٰ کسی آسمانی سلسلہ کو قائم کرتا ہے تو ابتلا اس کی جزو ہوتے ہیں جواس سلسلہ میں داخل ہوتا ہے ضروری ہوتا ہے کہ اس پر (بقیہ حاشیہ ) کی مشیت اس کی اپنی مشیت ہوتی ہے اور جیسے ایک انسان کو خصی کرکے چھوڑ دیا جاتا ہے تو وہ زناکاری وغیرہ حرکات کا مرتکب ہی نہیں ہوسکتا ویسے ہی یہ شخص خصی کر دیا جاتا ہے اور اس سے کوئی بدی نہیں ہوسکتی۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۵ )