ملفوظات (جلد 5) — Page 240
جو یہ جکڑا ہوا ہے اس سے رہائی بغیر موت کے ممکن ہی نہیں۔مقام اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ اسی موت کی طرف اشارہ کرکے قرآن شریف میں فرمایا ہے وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ (الـحجر:۱۰۰)اس جگہ یقین سے مُراد موت بھی ہے یعنی انسان کی اپنی ہواوہوس پر پوری فنا طاری ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت رہ جاوے اور وہ یہاں تک ترقی کرے کہ کوئی جنبش اور حرکت اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نہ ہو۔۱ سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ موت انسان پر وارد ہو جاتی ہے تو سب عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں۔۲ اور پھر خود ہی سوال کرتے ہیں کہ کیا انسان اباحتی ہوجاتا ہے اور سب (بقیہ حاشیہ )ہوا کہ اس کے ہاتھ سے دو خون ہوئے۔آخر اس نے طوطے کو پنجرہ سے نکال کر باہر پھینک دیا تو وہ طوطا جو پنجرہ سے مُردہ سمجھ کر پھینک دیا تھا اڑ کر دیوار پر جا بیٹھا اور کہنے لگا کہ در اصل نہ وہ طوطا مَرا تھا اور نہ میں۔میں نے تو اس سے راہ پوچھی تھی کہ اس قید سے آزادی کیسے حاصل ہو؟ سو اس نے مجھے بتایا کہ آزادی تو مَر کر حاصل ہوتی ہے پس میں نے بھی موت اختیار کی تو آزاد ہوگیا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۵ ) ۱ البدر میں ہے۔’’اس پنجرہ سے بھی وہ نہیں نکل سکتا جب تک کہ موت کو قبول نہ کرے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۵ ) ۲البدر سے۔’’اس پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ کیا ایسی موت کے آنے کے بعد انسان عبادت نہ کرے اور بےشک بدیوں میں مبتلا رہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس موت کے بعد یعنی جیسا کہ انسان نفس امّارہ سے جنگ کرکے اس پر غالب آجاتا ہے اور فتح پالیتا ہے تو پھر عبادت اور نیک اعمال کا بجا لانا اس کے لیے ایک طبعی اَمر ہوتا ہے جیسے انسان بلا تکلّف میٹھی میٹھی مزہ دار چیزیں کھاتا رہتا ہے اور اسے لذّت آتی رہتی ہے۔ایسے ہی بلا تکلّف نیک اعمال اس سے سر زد ہوتے رہتے ہیں اور اس کی تمام لذّت اور خوشی خدا تعالیٰ کی عبادت میں ہوتی ہے اور جب تک وہ نفس سے جنگ کرتا رہتا ہے تبھی تک اسے ثواب بھی ملتا ہے لیکن جب اس نے موت حاصل کر لی اور نفس پر فتح پالی تو پھر تو جنّت میں داخل ہوگیا اب ثواب کاہے کا؟ یہی وہ جنّت ہے جو انسان کو دنیا میں حاصل ہوتی ہے اور قرآن شریف میں دو جنتوں کا بیان ہے جیسے کہ لکھا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ(الرّحـمٰن: ۴۷) یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو جنتیں ہیں ایک دنیا میں اور ایک آخرت میں۔دنیا والی جنّت وہ ہے جو کہ اس درجہ کے بعد انسان کو حاصل ہوجاتی ہے اور اس مقام پر پہنچ کر انسان کی اپنی کوئی مشیت نہیں رہتی بلکہ خدا تعالیٰ