ملفوظات (جلد 5) — Page 238
اور ایک دن آ جاتا ہے کہ جب اس کا وہ دل زبان کے ساتھ متفق ہو جاتا ہے۱ اور پھر خود ہی وہ عاجزی اور رقّت جو دعا کے لوازمات ہیں پیدا ہوجاتے ہیں۔جو رات کو اٹھتا ہے خواہ کتنی ہی عدم حضوری اور بے صبری ہو لیکن اگر وہ اس حالت میں بھی دعا کرتا ہے کہ الٰہی دل تیرے ہی قبضہ و تصرّف میں ہے تُو اس کو صاف کر دے اور عین قبض کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے بسط چاہے تو اس قبض میں سے بسط نکل آئے گی اور رقّت پیدا ہوجائے گی۔یہی وہ وقت ہوتا ہے جو قبولیت کی گھڑی کہلاتا ہے۔وہ دیکھے گا کہ اس وقت روح آستانہ الوہیت پر پانی کی طرح بہتی ہے اور گویا ایک قطرہ ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف گرتا ہے۔مسیح علیہ السلام کی مضطر بانہ دعا میں نے خیال کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا واقعہ بھی عجیب ہے اور وہ حالت دعا کا ایک صحیح نقشہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت عیسٰیؑ کی بد قضاء وقدر مقدر تھی اور وہ قبل از وقت ان کو دکھائی گئی تھی اور انہوں نے بھی یہی سمجھا تھا کہ اس سے رہائی محال ہے اور پہلے نبیوں نے بھی ایسا ہی سمجھا تھا اور آثار بھی ایسے ہی نظر آتے تھے۔اسی واسطے انہوں نے بڑی بے کلی اور اضطراب کے ساتھ دعا کی۔انجیل میں اس کا نقشہ خوب کھینچ کر دکھایا ہے۔پس ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی قضاء وقدر کو جو موت کے رنگ میں مقدر تھی غشی کے ساتھ بدل دیا اور ان کی دعا سنی گئی چنانچہ انجیل کے مطالعہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہاں لکھا ہے فَسُمِعَ لِتَقْوٰہُ کہ اس کی دعا اس کے تقویٰ کے باعث سنی گئی اور خدا نے تقدیر ٹال دی اور موت غشی سے بدل گئی۔اصل بات یہ ہے کہ اگر عیسائیوں کے کہنے کے موافق مان لیا جاوے کہ مسیحؑ صلیب پر مَر گیا تو اس البدر سے۔’’اور اگر دعا کو دل نہ چاہے اور پورا خشوع خضوع دعا میں حاصل نہ ہو تو اس کے حصول کے واسطے بھی دعا کرے اور اس بات سے ابتلا میں نہ پڑے کہ میری دعا تو صرف زبان پر ہی ہوتی ہے دل سے نہیں نکلتی۔دعا کے جو لفظ ہوتے ہیں ان کو زبان سے ہی کہتا رہے۔آخر استقلال اور صبر سے ایک دن دیکھ لے گا کہ زبان کے ساتھ اس کا دل بھی شامل ہوگیا ہے اور عاجزی وغیرہ لوازمات دعا میں پیدا ہوجائیں گے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۳۴ )