ملفوظات (جلد 5) — Page 239
موت کو لعنتی ماننا پڑے گا جس کا کوئی جواب عیسائیوں کے پاس نہیں بلکہ عیسائیوں پر ایک اور مصیبت بھی آتی ہے اور وہ یہ ہے کہ پھر ان کو ماننا پڑے گا کہ مسیحؑ کی یہ دعا بھی جو اس نے باغ میں ساری رات رو رو کر کی تھی قبول نہیں ہوئی اور ان میں اور چوروں میں جو ان کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے تھے کیا فرق ہوا؟انہوں نے بھی تو صلیب پر مَرنے سے بچنے کے لیے دعا کی تھی اور انہوں نے بھی کی۔نہ ان کی قبول ہوئی اور نہ ان کی۔مگر ہمارا یہ مذہب نہیں ہے۔جیسے ہمارے نزدیک مسیحؑ کی موت لعنتی موت نہ تھی جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے ویسے ہی یہ بھی ہمارا اعتقاد ہے کہ ان کی دعا قبول ہوئی اور وہ صلیب پر سے زندہ اُتر آئے۔ایک نکتہ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایک باریک سِر ہوتا ہے جس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا۔انبیاء علیہم السلام پر اس قسم کے ابتلا اور قضاء وقدر آیا کرتے ہیں۔جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام پربھی آیا اور دوسرے نبیوں پر بھی کسی نہ کسی رنگ میں آتے ہیں اور یہ ایک تجلی ہوتی ہے جس کو دوسرے لوگ موت سمجھتے ہیں مگر یہ موت دراصل ایک زندگی کا دروازہ ہوتی ہے۔باب الموت صوفی کہتے ہیں کہ ہر ایک شخص کو جو خدا تعالیٰ سے ملنا چاہے ضروری ہے کہ وہ باب الموت سے گذرے۔مثنوی میں اس مقام کے بیان کرنے میں ایک قصہ نقل کیا ہے۔(یہاں حضرت نے وہ قصہ بیان کیا۱) پس یہ سچی بات ہے کہ نفس امّارہ کی تاروں میں البدر میں یہ قصہ بھی لکھا ہے کہ ’’ ایک شخص کےپاس ایک طوطا تھا جب وہ شخص سفر کو چلا تو اس نے طوطے سے پوچھا کہ تو بھی کچھ کہہ۔طوطے نے کہا کہ اگر تو فلاں مقام پر گزرے تو ایک بڑا درخت ملے گا اس پر بہت سے طوطے ہوں گے ان کو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ تم بڑے خوش نصیب ہو کہ کھلی ہوا میں آزادانہ زندگی بسر کرتے ہو اور ایک میں بے نصیب ہوں کہ قید میں ہوں۔وہ شخص جب اس درخت کے پاس پہنچا تو اس نے طوطوں کو وہ پیغام پہنچایا۔ان میں سے ایک طوطا درخت سے گرا اور پھڑک پھڑک کر جان دے دی۔اس کو یہ واقعہ دیکھ کر کمال افسوس ہوا کہ اس کے ذریعہ سے ایک جان ہلاک ہوئی۔مگر سوائے صبر کے کیا چارہ تھا۔جب سفر سے وہ واپس آیا تو اس نے اپنے طوطے کو سارا واقعہ سنایا اور اظہارِ غم کیا۔یہ سنتے ہی وہ طوطا بھی جو پنجرہ میں تھا پھڑکا اور پھڑک پھڑک کر جان دے دی۔یہ واقعہ دیکھ کر اس شخص کو اور بھی افسوس