ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 237

صحابہ میں بعض ایسے تھے جنہوں نے بیس۲۰ بائیس برس کی عمر پائی مگر چونکہ ان کو مَرتے وقت کوئی حسرت اور نامُرادی باقی نہ رہی بلکہ کامیاب ہو کر اُٹھے تھے اس لیے انہوں نے زندگی کا اصل منشا حاصل کر لیا تھا۔نیت حسنہ کی اہمیت اگر انسان نیکی نہ کرسکے تو کم از کم نیکی کی نیت تو رکھے کیونکہ ثمرات عموماًنیتوں کے موافق ملتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیوی حکام بھی اپنے قوانین میں نیت پر بہت بڑا مدار رکھتے ہیں اور نیت کو دیکھتے ہیں۔اسی طرح پر دینی امور میں بھی نیت پر ثمرات مرتّب ہوتے ہیں۔پس اگر انسان نیکی کرنے کا مصمم ارادہ رکھے اور نیکی نہ کرسکے تب بھی اسے اس کا اجر مل جاوے گا اور جو شخص نیکی کی نیت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو توفیق بھی دے دیتا ہے اور توفیق کا ملنا یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل پر منحصر ہے دیکھا گیا ہے اور تجربہ سے دیکھا گیا ہے کہ انسان سعی سے کچھ نہیں کرسکتا۔نہ وہ صلحاء، سعداء وشہداء میں داخل ہوسکتا ہے اور نہ اور برکات اور فیوض کو پا سکتا ہے۔غرض ع نہ بزور و نہ بزاری نہ بزرمے آید بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ گوہر مقصود ملتا ہے اور حصول فضل کا اقرب طریق دعا ہے۔دعا کے لوازمات اور دعا کامل کے لوازمات یہ ہیں کہ اس میں رقّت ہو۔اضطراب اور گدازش ہو۔جو دعا عاجزی، اضطراب اور شکستہ دلی سے بھری ہوئی ہو وہ خدا تعالیٰ کے فضل کو کھینچ لاتی ہے اور قبول ہو کر اصل مقصد تک پہنچاتی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ یہ بھی خدائے تعالیٰ کے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اور پھر اس کا علاج یہی ہے کہ دعا کرتا رہے، خواہ کیسی ہی بے دلی اور بے ذوقی ہو لیکن یہ سیر نہ ہو۔تکلّف اور تصنّع سے کرتا ہی رہے۔اصلی اور حقیقی دعا کے واسطے بھی دعا ہی کی ضرورت ہے۔بہت سے لوگ دعا کرتے ہیں اور ان کا دل سیر ہوجاتا ہے وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ کچھ نہیں بنتا۔مگر ہماری نصیحت یہ ہے کہ اس خاک پیزی ہی میں برکت ہے کیونکہ آخر گوہر مقصود اسی سے نکل آتا ہے