ملفوظات (جلد 5) — Page 230
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۰ جلد پنجم اس کے نیچے آتے ہیں اور اپنے رنگ میں اس سے استفادہ کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ صوفی ابن الوقت ہوتا ہے اسم ضال کی تجلی کا زمانہ گذر چکا اور اب اسم بادی کی تجلی کا وقت آیا ہے ۔ اسی واسطے خود بخود طبیعتوں میں اس کفر اور شرک سے ایک بیزاری پیدا ہو رہی ہے جو عیسائی مذہب نے پھیلایا تھا ہر طرف سے خبریں آرہی ہیں کہ دنیا میں ایک شور مچ گیا ہے اور وہ وقت آگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید دنیا میں پھیلے اور وہ شناخت کیا جاوے۔ اس کی طرف اشارہ کر کے براہین احمدیہ میں ا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے كُنْتُ كَنزًا مَغْفِيًّا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْرَفَ اور پھر ایک جگہ فرمایا ہے۔ اردت آن اسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ ادم - جن لوگوں کو کچھ بھی تعلق نہیں ہے وہ بھی مانتے ہیں کہ یہ زمانہ انقلابات کا زمانہ ہے۔ ہر قسم کے انقلابات ہو رہے ہیں اور یہ سب انقلاب اب ایک آنے والے زمانہ کی خبر دیتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کامل طور پر ظاہر ہو ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو اس قوم میں فسق و فجور پیدا ہو جاتا ہے فاسق چونکہ زنانہ مزاج ہوتے ہیں اور فسق کی بنیادریت پر ہوتی ہے اس لیے وہ جلد تباہ ہوتے ہیں ذرا سا مقابلہ ہو اور سختی پڑے تو برداشت کی طاقت نہیں رکھتے ۔ شخص کے کیا براہین میں نزول مسیح کا عقیدہ درج کرنے کی حقیقت ایک میں نے سوال کیا کہ براہین احمدیہ میں مسیح کے دوبارہ آنے کا اقرار درج ہے خدا تعالیٰ نے پہلے ہی کیوں ظاہر نہ کر دیا؟ فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہم کو بتایا ہم نے ظاہر کر دیا اور یہی ہماری سچائی کی دلیل ہے اگر منصوبہ بازی ہوتی تو ایسا کیوں لکھتے ؟ مگر ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس براہین میں میرا نام عیسی بھی رکھا گیا ہے۔ اس کی بنیاد براہین سے پڑی ہوئی ہے اور علاوہ بریں سنت اللہ اسی طرح پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال سے پہلے کیوں نبوت کا دعویٰ نہ کر دیا ؟ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام مامور ہونے سے پہلے یوسف نجار کے ساتھ بڑھئی کا کام ہی کرتے رہے۔ لے یہ سوال اور اس کا جواب "البدر نے یکم اگست کی ڈائری میں درج کیا ہے۔ (مرتب)