ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 229

۳۰؍جولائی ۱۹۰۳ء صداقت کا ایک معیار فرمایا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو کس کو معلوم تھا کہ آپ کے ہاتھ سے اسلام سمندر کی طرح دنیا میں پھیل جاوے گا اور جب آپ نے دعویٰ کیا تو وہی تین چار آدمی آپ کے ہمراہ تھے جو کہ مسلمان ہوئے تھے اور ابوجہل وغیرہ آپ کو کیسے ذلیل اور حقیر خیال کرتے تھے لیکن اب اگر وہ زندہ ہوں تو ان کو پتا لگے کہ جسے وہ حقیر اور ذلیل خیال کرتے تھے خدا نے اس کی کیا عزّت کی ہے۔اعدا کی ذلّت اور اپنی کامیابی پر فرمایا کہ اس کے متعلق حال میں پیشگوئی جو ہوئی ہے اگرچہ وہ ایک رنگ میں پوری ہو گئی ہے تاہم اسے پوری ہوئی کہنا ہماری غلطی ہے۔خدا جانے خدا کا کیا منشا ہے اصل حد ایسی پیشگوئیوںکی وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ (اٰل عمران:۵۶) ہے جو کہ بہت سے اسباب کو چاہتا ہے۔دنیا میں حق پسند بہت تھوڑے ہیں اور اقبال پسند بہت زیادہ۔اس لیے اللہ تعالیٰ بہت سے صاحبِ اقبال کو اپنے برگزیدوں کے ساتھ کردیا کرتا ہے تاکہ عوام الناس ان کے ذریعہ سے ہدایت پاویں کیونکہ عوام الناس میں حق پسندی اور عمیق عقل کم ہوتی ہے اس لیے وہ بڑے بڑے آدمیوں کو دیکھ کر ان کے ذریعہ داخل ہوتے اور ہدایت پاتے ہیں۔۱ ۳۱ ؍جولائی ۱۹۰۳ء اَسماء الٰہیہ کی تجلیات بعض زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے اسمِ ضال کی تجلی ہوتی ہے اور بعض زمانہ میں اسمِ ہادی کی تجلی۔نیک اور خدا ترس لوگ جس اسم کی تجلی ہوتی ہے اس ۱البدرجلد۲نمبر۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست۱۹۰۳ء صفحہ۲۳۳ نیزالحکم جلد۷نمبر۳۱ مورخہ ۲۴؍اگست۱۹۰۳ء صفحہ ۱