ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 231

غرض جب تک حکم نہیں ہوتا اعلان نہیں کرتے۔دیکھو جب تک شراب کی حرمت کا حکم نہیں ہوا تھا اس کی حرمت بیان نہیں کی گئی۔۱ اسی طرح ہواکرتا ہے جب خدا تعالیٰ نے ہم پر کھول دیا ہم نے دعویٰ کردیا۔بغیر اس کی اطلاع اور اذن کس طرح ہوسکتا تھا؟ پس یادرکھو کہ ہر ایک نبی کو جب تک وحی نہ ہو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہر ایک چیز کی اصل حقیقت تو وحی الٰہی سے ہی کھلتی ہے یہی وجہ تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوا مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِيْمَانُ(الشورٰی:۵۳) یعنی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کی وحی آپ پر ہوئی تو پھر اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (یونس:۱۰۵) آپ کو کہنا پڑا اسی طرح آپ کے زمانہ وحی سے پیشتر مکہ میں بُت پرستی اور شرک، فسق وفجور ہوتا تھا لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ وحی الٰہی کے آنے سے پہلے بھی آپ نے ان بتوں کے خلاف وعظ کیا اور تبلیغ کی تھی لیکن جب فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ(الـحجر:۹۵)کا حکم ہو اتو پھر ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کی اور ہزاروں مشکلات اور مصائب کی بھی پروا نہیں کی۔بات یہی ہے کہ جب کسی اَمر کے متعلق وحی الٰہی آجاتی ہے تو پھر مامور اس کے پہنچانے میں کسی کی پروا نہیں کرتے اور اس کا چھپانا اسی طرح شرک سمجھتے ہیں جس طرح وحی الٰہی سے اطلاع پانے کے بغیر کسی اَمر کی اشاعت شرک سمجھتے ہیں۔اگر وہ اس بات کو جس کی اطلاع وحی الٰہی کے ذریعہ سے نہیں ملی بیان کرتا ہے تو گویا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے وہ سوجھتا ہے جو خدا کو بھی نہیں سوجھتا اور اس گستاخی سے وہ مشرک ہو جاتا ہے اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ تمام باتیں جو قرآن شریف میں درج ہیں قرآن شریف کے نزول سے پہلے ہی بیان کر دیتے تو پھر قرآن شریف کی کیا ضرورت رہ جاتی۔غرض جو کچھ ہم پر خدا نے ۱ البدر میں ہے۔’’ابتدا میں بعض صحابہ کرامؓ نے شراب پی ہوئی ہوتی تھی اور نماز پڑھ لیتے تھے۔لیکن آنحضرتؐنے کسی کو منع نہیں کیا۔جب تک کہ آیت کریمہلَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى (النساء:۴۴) نہ نازل ہوئی۔‘‘ (البدرجلد ۲ نمبر ۳۰ مورخہ ۱۴؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۲۳۴)