ملفوظات (جلد 5) — Page 228
کو نجات کا اکیلا ذریعہ سمجھتا ہے کہہ سکتا ہے کہ اس نے نجات پالی ہے اور نجات کے آثار وعلامات اس میں پائے جاتے ہیں۔مسیحؑ کے صلیب ملنے تک تو شائد ان کی حالت کسی قدر اچھی ہو مگر بعد تو ہردوسرا دن پہلے سے بدترہوتا گیایہاں تک کہ اب تو فسق وفجورکے سیلاب کا بند ٹوٹ گیا۔کیا یہ نجات کے آثار ہیں؟ آریوں کو بھی فضل سے کوئی تعلق نہیں وہ تو دست خود دہانِ خود کے مصداق ہیں اور ان کے پرمیشر نے تو ابھی کچھ بھی نہیں کیا کسی کو نجات کامل مل ہی نہیں سکتی اور وہ تمام نجاست کے کیڑے علاوہ ان کیڑوں مکوڑوں کے جو موجود ہیں سب انسان ہیں جن کو نجات حاصل نہیں ہوئی تو بتاؤ کہ وہ اَور کسی کو کیا نجات دے گا۔جب اس قدر کثیر اور بے شمار تعداد ابھی باقی ہے۔آریوں کی دعا بھی تر میم کے قابل ہے کیونکہ ان کی مکتی سے مُراد جاودانی مکتی نہیں ہوتی بلکہ ایک محدود وقت تک انسان جو نوں سے نجات پاتا ہے اور چونکہ روحیں محدود ہیں اور نئی روح پر میشر پیدا نہیں کرسکتا مجبوراً ان نجات یافتہ کو نکال دیتا ہے پس جب ان کے پر میشر نے جاودانی مکتی ہی نہیں دینی تو دعا بھی تر میم کرکے یوں مانگنی چاہیے کہ اے پر میشر تو جو دائمی مکتی دینے کے قابل نہیں ہے تو ایک خاص وقت تک مجھے نجات دے اور پھر دھکا دے کر اسی دارالمِحَن دنیا میں بھیج دے اور فطرت بھی بدل ڈال کہ اس میں جاودانی نجات کا تقاضا ہی نہ رہے۔مجھے تعجب ہے کہ یہ لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ انسانی فطرت کا تقاضا جاودانی نجات کا ہے نہ عارضی کا اور عارضی نجات والا جس کو یقین ہو کہ وہ پھر انہیں تلخیوں میں بھیجا جاوے گا کب خوشی حاصل کرسکتا ہے ایسے پر میشر پر انسان کیا بھروسہ اور امید رکھ سکتا ہے۔بقول شخصے ؎ تو بخویشتن چہ کردی کہ بماکنی نظیری حقاکہ واجب آمد ز تو احتراز کردن ۱ ۱ الحکم جلد۷نمبر۳۰ مورخہ ۱۷؍اگست۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰، ۱۱