ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 227 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 227

جاوے جیسا کہ آریہ سماج کا عقیدہ ہے تو یہ ایک باریک شرک ہے۔کیونکہ اس کا مفہوم دوسرے لفظوں میں یہ ہوگا کہ انسان خو دبخود نجات پاسکتا ہے اور اعمال اس کے اپنے اختیار میں ہیں جن کو وہ خود بخود بجا لاتا ہے تو اس صورت میں نجات کی کلید انسان ہی کے اپنے ہاتھ میں ہوئی اور خدا سے نجات کا کچھ تعلق اور واسطہ نہ ہوا گویا وہ خود کوئی چیز نہ ہوا۔اور اس کا عدم وجود برابر ٹھہرا(معاذاللہ) مگر نہیں ہمارا یہ مذہب نہیں ہے۔ہمارا یہی عقیدہ ہے کہ نجات اس کے فضل سے ملتی ہے اور اسی کا فضل ہے جو اعمال صالحہ کی توفیق دی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کا فضل دعا سے حاصل ہوتا ہے لیکن وہ دعا جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتی ہے وہ بھی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتی۔انسان کا ذاتی اختیار نہیں کہ وہ دعا کے تمام لوازمات اور شرائط محویت،توکّل، تبتّل، سوزوگداز وغیرہ کو خود بخود مہیا کرے جب اس قسم کی دعا کی توفیق کسی کو ملتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی جاذب ہو کر ان تمام شرائط اور لوازم کو حاصل کرتی ہے جو اعمال صالحہ کی رُوح ہیں ہمارا نجات کے متعلق یہی مذہب ہے۔چو نکہ نجات کوئی مصنوعی اور بناوٹی بات نہیں کہ صرف زبان سے کہہ دینا اس کے لیے کافی ہو کہ نجات ہو گئی اس لیے اسلام نے نجات کا معیار یہ رکھا ہے کہ اس کے آثار اور علامات اسی دنیا۱ میں شروع ہو جائیں اور بہشتی زندگی حاصل ہو، لیکن یہ صرف اسلام ہی کو حاصل ہے باقی دوسرے مذاہب نے جو کچھ نجات کے متعلق بیان کیا ہے وہ یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مُبْطِل ہے بلکہ فطرتِ انسانی کے خلاف اور عقلی طور پر بھی ایک بیہودہ اَمر ثابت ہوتا ہے وہ نجات ایسی ہے کہ جس کا کوئی اثر اور نمونہ اس دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا۔اس کی مثال اس پھوڑے کی سی ہے جو باہر سے چمکتاہے اور اس کے اندر پیپ ہے۔نجات یافتہ انسان کی حالت ایسی ہونی چاہیے کہ اس کی تبدیلی نمایاں طور پر نظر آوے اور دوسرے تسلیم کرلیں کہ واقعی اس نے نجات پالی ہے اور خدا نے اس کو قبول کر لیا ہے لیکن کیا کوئی عیسائی جو خونِ مسیحؑ ۱البدر میں ہے۔’’نجات کا اثر یہ ہے کہ اسی دنیا میں اس شخص کو بہشتی زندگی نصیب ہو۔مَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى (بنی آسـراءیل:۷۳)۔‘‘ (البدرجلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۷؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۷ ۲۲ )