ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 223

کے بھی لاتے ہیں کہ فلاں کام دنیا کا ہو جاوے۔یہ ہو جاوے۔یہ سچ ہے کہ جو مومن ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ ہر ایک مشکل کو اس کی آسان کر دیتا ہے مگر سب سے اوّل معرفت ضروری ہے پھر خدا تعالیٰ خود اس کی ہر ایک ضرورت کا کفیل ہوگا۔۱ ۲۶؍جولائی ۱۹۰۳ء مسیح موعود کے زمانہ میں درازیٔ عمر کا راز احادیث میں جو آیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں عمریں لمبی ہو جائیں گی۔اس سے یہ مُراد نہیں ہے کہ موت کا دروازہ بالکل بند ہو جائے گا اور کوئی شخص نہیں مَرے گا۔بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مالی، جانی نصرت میں اس کے مخلص احباب ہوں گے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہوں گے ان کی عمریں درازکردی جائیں گی۔اس واسطے کہ وہ لوگ نفع رساں وجود ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وَ اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ (الرّعد:۱۸)۔یہ اَمر قانونِ قدرت کے موافق ہے کہ عمریں درازکر دی جائیں گی۔اس زمانہ کو جو دراز کیا ہے یہ بھی اس کی رحمت ہے اور اس میں کوئی خاص مصلحت ہے۔(اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ مسلمانوں میں سب سے پہلا مجدّد عمربن عبد العزیز کو تسلیم کیا ہے وہ کل دو۲ برس تک زندہ رہے ہیں۔) زاں بعد حضرت حجۃ اللہ نے پھر اپنے سلسلہ کلام میں فرمایاکہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے آج تک ہم کو محفوظ رکھا ہے اور جماعت کو ترقی دے رہاہے اور اس کے ازدیادِ ایمان اور معرفت کے لیے حجج وبراہین ظاہر کررہا ہے یہاں تک کہ کوئی پہلو تاریکی میں نہیں رہنے دیا۔۱ البدر۲ جلدنمبر۲۹ مورخہ ۷؍اگست ۱۹۰۳ ءصفحہ ۲۲۶ ۲یعنی بعد از خلافت دو برس زندہ رہے۔(مرتّب)