ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 224

سلسلہ احمدیہ ہمارے سلسلہ کے لیے منہاجِ نبوت ایک زبردست آئینہ ہے۔جاہل اس پر اگر اپنی کم سمجھی سے اعتراض کرے تو منہاج نبوت اس کے منہ پر طمانچہ مارتا ہے جو بات ہو نہار ہوتی ہے اس کے نشانات اور آثار خود بخود نظر آنے لگتے ہیں جو کام اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے اس کی تکمیل کی ہوائیں چل رہی ہیں اور دو طرح سے وہ ہو رہا ہے ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ ہم کو توفیق دے رہا ہے کہ ہماری طرف سے دن رات کوشش جاری ہے اور اشاعت اور تبلیغ کی راہیں کھلتی جاتی ہیں تائیدات الٰہیہ شامل حال ہوتی جاتی ہیں۔دوسری طرف۱ خود ہمارے مخالفوں کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔اور ان میں ہی ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو اپنے مذہب کو چھوڑتے جاتے ہیں اور اس کی برائیاں بیان کررہے ہیں گویا وہ اپنے مذہب وملّت کی عمارت کو يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ (الـحشـر:۳) کے مصداق ہو کر خود ہی مسمار کررہے ہیں۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ جب تک اپنا چہرہ نہ دکھلالے ہرگز نہیں چھوڑے گا کیونکہ یقین کی ترقی کا سچا ذریعہ یہی ہے۔دوزخ کے سات دروازے فرمایا۔چند روز سے جو مستورات میں وعظ کا سلسلہ جاری ہے ایک روز یہ ذکر آگیا کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں اور بہشت کے آٹھ۔اس کا کیا سِر ہے تو ایک دفعہ ہی میرے دل میں ڈالا گیا کہ اصول جرائم بھی سات ہی ہیں اور نیکیوں کے اُصول بھی سات۔بہشت کا جو آٹھواں دروازہ ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کا دروازہ ہے۔دوزخ کے سات دروازوں کے جو اُصول جرائم سات ہیں ان میں سے ایک بد ظنّی ہے۔بدظنّی کے ذریعہ بھی انسان ہلاک ہوتا ہے اور تمام باطل پرست بدظنی سے گمراہ ہوئے ہیں۔دوسرا اصول تکبّر ہے۔تکبّر کرنے والا اہل حق سے الگ رہتا ہے اور اسے سعادت مندوں کی ۱ البدر میں ہے۔’’دوسرے یہ کہ ان کی کوششوں کا وبال الٹ کر انہی پر پڑتا ہے اور وہ يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ (الـحشـر:۳) کا خود مصداق ہورہے ہیں۔‘‘ (البدرجلد ۲ نمبر ۲۹ مورخہ ۷؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۷ ۲۲ )