ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 222 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 222

تقویت ِایمان کی ضرورت تقویت ِایمان کی بڑی ضرورت ہے بغیر ایمان کے اعمال مثل مُردہ کے ہوتے ہیں۔ایمان ہو تو انسان کو وہ معرفت حاصل ہوتی ہے جس سے وہ آسمان کی طرف مصعود ہوتا ہے اور اگر یہ نہ ہو تو نہ برکات حاصل ہوتے ہیں نہ خوشی حاصل ہوتی ہے۔خدا کو دیکھنے کے بعد جب کوئی عمل کیا جاوے تو جو اس عمل کی شان ہو گی کیا ویسی کسی دوسرے کی ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔جس قدر امراض عمل کی کمزوری اور تقویٰ کی کمزوری کے دیکھے جاتے ہیں ان سب کی اصل جڑ معرفت کی کمزوری ہے۔۱ ایک کیڑے کی بھی معرفت ہوتی ہے تو انسان اس سے ڈرتا ہے پھر اگر خدا کی معرفت ہو تو اس سے کیوں نہ ڈرے؟ غرضیکہ معرفت کی بڑی ضرورت ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ اگرچہ ہماری جماعت تو بڑھ رہی ہے لیکن ابھی پوست ہی بڑھتا ہے اگر مغز بڑھے تو بات ہے۔بار بار خیال آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا ہی قوت قدسیہ ہے کہ آپ پر ایمان لا کر صحابہ کرام ؓ نے یک دفعہ ہی دنیا کا فیصلہ کر دیا۔جان سے بڑھ کر کیا شَے ہوتی ہے اپنے خون سے دین پر مہر یں لگا دیں اب لوگ بیعت کرتے ہیں تو دیکھا جاتا ہے کہ ساتھ ہی مخفی اغراض دنیا ۱ الحکم میں ہے۔’’ ایمان کے ساتھ عمل کی ضرورت ہے ورنہ ایمان بدوں عمل مُردہ ہے اور جب تک عمل نہ ہو وہ ثمرات اور نتائج پیدا نہیں ہوتے جو اعمال کے ساتھ وابستہ ہیں۔مگر اعمال کی قوت اور توفیق معرفت اور یقین سے پیدا ہوتی ہے جس قدر یہ قوت بڑھتی ہے اسی قدر اعمالِ صالحہ کی توفیق ملتی ہے اور وہ برکات حاصل ہوتی ہیں جن سے انسان آسمان کی طرف اُٹھا یاجاتاہے۔اگر یہ بات نہ ہوتو یقین کے ثمرات پیدا نہیں ہوتے جس قدر انسان شک وشبہ میں اور غفلت میں ہے اسی قدر اس کا ایمان کمزور ہے اور اس ایمان کے موافق اس کے اعمال کمزور۔جس قدر امراض عمل کی کمزوری اور تقویٰ کی کمزوری سے پیدا ہوتے ہیں اس کی اصل جڑ معرفت کی کمی اور کمزوری ہے۔ورنہ معرفت تو ایک ایسی لذیذ شَے ہے کہ یہ جس قدر بڑھتی ہے اسی قدر عمل کی طاقت ملتی ہے۔ایک کیڑے کی معرفت بھی ہو تو انسان اُس سے ڈرتا ہے۔اسے علم ہوکہ چیونٹی کے کاٹنے سے درد ہوتا ہے تو اس سے بھی ڈرتا ہے۔اور اس کے ضرر سے بچتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کی معرفت ہوتو کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ اس سے نہ ڈرے۔اصل یہی معرفت ہے جس کے بغیر کوئی خوشی اور برکت حاصل نہیں ہوسکتی۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۰ ؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ