ملفوظات (جلد 5) — Page 193
ذات ہی باقی رہ جاتی ہے اور اسباب بالکل منقطع ہو جاتا ہے۔اسباب تو صرف چند قدموں تک ساتھ دیتا ہے اس کے بعد خدا تعالیٰ کی غیر مدرک اور غیر مرئی خالص قدرت ہوتی ہے یہ ایک ایسا پوشید ہ خزانہ ہے کہ جس کی حد اور انتہا ہی نہیں ہے اور ایسا دریا ہے کہ جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اور ایک ایسا دشت ہے کہ جوطے ہونے میں نہیں آتا۔یہ کہناکہ قدرت خالص اللہ تعالیٰ کی بے کار ہو جاتی ہے اورصرف اسباب رہ جاتے ہیں بڑی بے انصافی ہے۔کیا تم کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ خدا نے آدم ؑ اور عیسٰیؑ کو کیسے پیدا کیا تھا؟ اور موسٰی کے لیے کس طرح دریا کو شگا ف کیا کہ جس سے موسٰی تو دریا سے سلامت گذرگئے اور فرعون غرق ہو گیا اب تم ہی جواب دو کہ وہ کون سی کشتی تھی جس پر بیٹھ کر موسٰی دریا سے گذرے۔خدا تعالیٰ نے اس قصہ کو قرآن کریم میں بے فائدہ نہیں ذکرکیا ہے بلکہ اس میں بڑے بڑے معارف اور حقائق ہیں تاکہ تم کو اس بات کا علم ہو کہ اس پاک ذات اللہ تعالیٰ کی قدرت اسباب میں مقیّد نہیں ہے اور تمہارے ایمان ترقی کریں۔آنکھیں کھلیں اور شکوک وشبہات رفع ہوں اور تم کو یہ شناخت حاصل ہو کہ تمہارا خدا ایسا قادر خدا ہے کہ اس پر کسی قسم کا کوئی دروازہ مسدود نہیں ہے۔اس کی قدرتوں کی کوئی انتہا نہیں ہے جو شخص اس کی وسعتِ قدرت سے منکر ہو کر اسباب کے احاطہ میں اسے مقیّد کرتا ہے تو سمجھو کہ صدق کے مقام سے وہ گرپڑا پس اگر کوئی شخص حکمِ خدا وندی سے اسباب کو ترک کرتا ہے تم اسے بُرا مت کہو اورخدا تعالیٰ کے قانون کو ایک تنگ وتاریک دائرہ میں محدودمت کرو۔۱ ۴؍جولائی ۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء) (بقیہ حاشیہ)جاتیں اور یہ زمانہ جانوں کے دینے کا نہیں بلکہ فقط مالوں کے بقدراستطاعت خرچ کرنے کا ہے۔اس لیے ہر ایک شخص تھوڑا تھوڑا جو وہ لنگر اور مدرسہ اور دیگر ضروری مدّوں میں دے سکتا ہے دے۔وہ آدمی جو تھوڑا تھوڑا چندہ دے مگر باقاعدہ اس سے بہتر ہے جو زیادہ دے مگر گاہے دے۔‘‘ (الحکم جلد۷ نمبر۲۵مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۸)