ملفوظات (جلد 5) — Page 194
تعویذاور دَم ایک شخص نے مسئلہ استفسار کیا کہ تعویذ کا بازووغیرہ مقامات پر باندھنا اور دم وغیرہ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جناب مولاناحکیم نورالدین صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایاکہ احادیث میں کہیں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ نہیں؟ حکیم صاحب نے عرض کی کہ لکھا ہے کہ خالدبن ولیدجب کبھی جنگوں میں جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک جو کہ آپ کی پگڑی میں بندھے ہوتے آگے کی طرف لٹکا لیتے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف۱ ایک دفعہ صبح کے وقت ساراسرمنڈوایا تھا توآپ نے نصف سرکے بال ایک خاص شخص کودے دیئے اور نصف سرکے بال باقی اصحاب میں بانٹ دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جبہ مبارک کو دھو دھو کر مریضوں کو بھی پلاتے تھے۲ اور مریض اس سے شفایاب ہوتے تھے۔ایک عورت نے ایک دفعہ آپ کا پسینہ بھی جمع کیا یہ تمام اذکار سن کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ پھر اس سے نتیجہ یہ نکلا کہ بہرحال اس میں کچھ بات ضرور ہے جو خالی ازفائدہ نہیں ہے اور تعویذوغیرہ کی اصل بھی اس سے نکلتی ہے۔بال لٹکائے تو کیا اور تعویذباندھا تو کیا میرے الہام میں جو ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔آخر کچھ تو ہے تبھی وہ برکت ڈھونڈیں گے مگر ان تمام باتوں میں تقاضائے محبت کا بھی دخل ہے۔عظیم الشان انسانوں کے صغائر پر نظر کرنے کا ذکر ہوا۔فرمایا کہ صدق ووفا میں جوعظیم الشان انسان ہوتے ہیں ان کے صغائر کا ذکر کرنے سے سلبِ ایمان ہو جاتا ہے۔خدا تو ان صغائر کو عفوکر دیتا ہے اور ان کے کارناموں کی عظمت اس قدر ہوتی ہے کہ اس کے مقابلہ میں صغائر کا ذکر کرتے ہی شرم آتی ہے اسی لیے وہ رفتہ رفتہ ایسے معدوم ہو جاتے ہیں کہ پھر ان کا نام ونشان ہی نہیں رہتا۔۱ ۱ البدر جلد۲ نمبر۲۶مورخہ۱۷؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۱،۲۰۲