ملفوظات (جلد 5) — Page 189
اپنی عورتوں کو نصیحتیں کرو، رشوتیں نہ لونہ دو، تکبر، گھمنڈ، غرور ان سب باتوں سے بچو، خدا کے غریب اور عاجز بندے بن جاؤ۔صبر اور عفو ایک نے سوال کیا کہ اگر کوئی دشمن نقصان دیوے تو پھر بدلہ لیویں کہ نہ؟ فرمایا کہ صبر کرو کہ یہ وقت صبر کا ہے۔جو صبر کرتا ہے خدا اسے بڑھاتا ہے۔انتقام کی مثال شراب کی طرح ہے کہ جب تھوڑی تھوڑی پینے لگتا ہے تو بڑھتی جاتی ہے حتی کہ پھر وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا اورحد سے بڑھتا ہے اسی طرح انتقام لیتے لیتے انسان ظلم کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ایسی مجلس سے اُٹھ جانا چاہیے جہاں بُرا کہا جاتا ہو سوال ہوا کہ اگرآپ کو کوئی بُرا کہے تو ہم کیسے صبر کرسکتے ہیں؟ فرمایا کہ جوش کے وقت اپنے آپ کو سنبھالنا چاہیے۔دُکھ تو ہوتا ہے مگر انسان ثواب پا تا ہے۔اگر کوئی ہمیں بُرا کہتا ہو تو وہاں سے اُٹھ گئے یا الگ ہو گئے۔نہ سُناکہ جس سے جوش آوے اور فساد ہووے۔فساد سے بچنا چاہیے سوال ہوا کہ مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دیتے اور اس مسجدمیں ہمارا حصہ ہے۔فرمایا کہ سفید زمین پر ایک حد کرلی وہی مسجد ہو جاتی ہے مگر فساد اچھا نہیں۔اگر تم دشمن سے بدلہ نہ لو اور اسے خدا کے حوالہ کردو تو وہ خود نپٹ لیوے گا۔دیکھو ایک بچہ کے دشمن کا مقابلہ ماںباپ کیا کرتے ہیں۔اسی طرح جو خدا کے دروازہ پر گرتا ہے تو خدا خوداس کی رعایت کرتا ہے اور اسے ضرر دینے والے کو تباہ کر دیتا ہے۔۱ یکم جولائی ۱۹۰۳ء (دربارِ شام ) ۱الحکم جلد۷ نمبر۲۵مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ۱نیز البدر جلد ۲ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۹۳، ۱۹۴