ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 179

ہمارے مخدوم مولانا عبدالکریم صاحب جو کہ عرصہ قریب پانچ سال سے حضرت اقدس کے مبارک قدموں میں جاگزیں ہیں ان کو ایک شادی کی تقریب پر شمولیت کے واسطےایک دو احباب سیالکوٹ سے تشریف لائے تھے مگر خدا تعالیٰ نے جو عشق اور محبت مولوی صاحب کو حضرت اقدسؑ کے ساتھ عطا کیا ہے وہ ایک پل کے واسطے بھی ان مبارک قدموں سے جدائی کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس کا اثر یہ ہے کہ جب کوئی احمدی بھائی قادیان آکر پھر رخصت طلب کرتے ہیں تو مولوی صاحب کی ان کو یہی نصیحت ہوتی ہے کہ اس مقام کو اتنی جلدی نہ چھوڑو۔دیکھو تمہارے اوقات دنیوی کا روبار میں کس قدر گذرتے ہیں اگر اس کا ایک عشرِ عشیر بھی تم دین کے واسطے یہاں گذارو تو تم کو پتا لگے اور آنکھ کھلے کہ یہاں کیا ہے جو ہمیں ایک پل کے واسطے علیحدہ نہیں ہونے دیتا غرضیکہ مولوی صاحب موصوف نے سیالکوٹ جانے سے انکار کیا اور وہی بات اس وقت حضرت اقدس کے سامنے پیش ہوئی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ قادیان دارالامان اس مقام کو خدا تعالیٰ نے امن والا بنایا ہے اور متواتر کشوف والہامات سے ظاہر ہوا ہے کہ جو اس کے اندر داخل ہوتا ہے وہ امن میں ہوتا ہے۔تو اب ان ایام میں جبکہ ہر طرف ہلاکت کی ہوا چل رہی ہے اور گو کہ طاعون کا زور اب کم ہے مگر سیالکوٹ ابھی تک مطلق اس سے خالی نہیں ہے۔اس لیے اس جگہ کو چھوڑ کر وہاں جانا خلافِ مصلحت ہے۔آخر کار تجویز یہ قرار پائی کہ جن صاحب کی شادی ہے وہ اور لڑکی کی طرف سے اس کا ولی ایک شخص وکیل ہو کر یہاں قادیان میں آجاویں اور یہاں نکاح ہو۔حضرت صاحب کی دعا بھی ہو گی اور خود مولوی عبدالکریم صاحب کیا بلکہ حضرت اقدسؑ بھی اس تقریب سے نکاح میں شامل ہو جاویںگے۔کیا اچھا ہو کہ کل احمدی احباب اس تجویز پر عملدرآمد کریںاور جب کبھی کسی کا نکاح ہونا ہو اور خدا تعالیٰ نے ان کو استطاعت دی ہو کہ سفر خرچ برداشت کر کے یہاں پہنچ سکیں تو وہ نکاح یہاں قادیان ہی میں ہوا کرے۔۱ البدر جلد ۲نمبر۲۴ مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۰۳ءصفحہ۱۸۵