ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 180

جس لڑکے کے رشتہ کی یہ تقریب تھی اس کا رشتہ اوّل ایک ایسی جگہ ہوا ہوا تھا جو کہ حضرت کی بیعت میں نہیں تھے اور جب یہ رشتہ قائم ہوا تھا تواس وقت لڑکا بھی شاملِ بیعت نہ تھا جب لڑکے نے بیعت کی تولڑکی والوں نے اس لیے لڑکی دینے سے انکار کر دیا کہ لڑکا مرزائی ہے۔اس ذکر پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اوّل اوّل یہ لوگ ایک دوسرے کو کافر کہتے تھے سنّی وہابیوں کی اور وہابی سنّی کی تکفیر کرتا تھا مگر اب اس وقت سب نے موافقت کر لی ہے اور سارا کفر اکٹھا کرکے گویا ہم پر ڈال دیا ہے۔۱ ۱۹؍جون ۱۹۰۳ء ریل کی پیشگوئی قرآن شریف میں جمعہ کی نماز سے پیشتر تھوڑی دیر حضرت اقدس نے مجلس کی۔ریل وغیرہ کی ایجاد سے جو فوائد بنی نوع انسان کو پہنچے ہیں ان کا ذکر ہوتا رہا۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ انسانی صنعتوں کا انحصار خدا تعالیٰ کے فضل پر ہے۔ریل کے واسطے قرآن شریف میں دو اشارے ہیں۔اوّل۔اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ (التکویر:۸) دوم۔اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (التکویر:۵) عشار حمل دار اونٹنی کو کہتے ہیں۔حمل کا ذکر اس لیے کیا تاکہ معلوم ہو جاوے کہ یہ قیامت کا ذکر نہیں ہے۔صرف قرینہ کے واسطے یہ لفظ لکھا ہے ورنہ ضرورت نہ تھی۔اگر پیشگوئیوں کا صدق اس دنیا میں نہ کھلے تو پھر اس کافائدہ کیا ہوسکتا ہے اور ایمان کو کیا ترقی ہو؟بیوقوف لوگ ہر ایک پیشگوئی کو صرف قیامت پر لگاتے ہیں اور جب پوچھو تو کہتے ہیں کہ اس دنیا کی نسبت کوئی پیشگوئی قرآن شریف میں نہیں ہے۔۱