ملفوظات (جلد 5) — Page 178
عبودیت کا سِرّاور استغفار چند ایک احباب نے بیعت کی۔اس پر حضرت اقدس نے ان کو نصیحت فرمائی کہ خدا کا منشا ہے کہ انسان توبہ نصوح کرے اور دعا کرے کہ اس سے گناہ سر زد نہ ہو۔نہ آخرت میں رسواہو نہ دنیا میں۔جب تک انسان سمجھ کر بات نہ کرے اور تذلّل اس میں نہ ہو تو خدا تک وہ بات نہیں پہنچتی۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ اگر چالیس دن گزر جاویں اور خدا کی راہ میں رونا نہ آوے تو دل سخت ہو جاتا ہے تو سختی قلب کا کفّارہ یہی ہے کہ انسان رو دے۔اس کے لیے محر کات ہوتے ہیں انسان نظر ڈال کر دیکھے کہ اس نے کیا بنایا ہے اور اس کی عمر کا کیا حال ہے۔دیگر گذشتگان پر نظر ڈالے پھر انسان کا دل لرزاں وتر ساں ہوتا ہے۔جو شخص دعویٰ سے کہتا ہے کہ میں گناہ سے بچتا ہوں وہ جھوٹا ہے جہاں شیر ینی ہوتی ہے وہاں چیونٹیاں ضرور آتی ہیں اسی طرح نفس کے تقاضے تو ساتھ لگے ہی ہیں ان سے نجات کیا ہوسکتی ہے؟ خدا کے فضل اور رحمت کا ہاتھ نہ ہو تو انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا نہ کوئی نبی نہ ولی اور نہ ان کے لیے یہ فخر کا مقام ہے کہ ہم سے گناہ صادر نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ خدا کا فضل مانگتے تھے اور نبیوں کے استغفار کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خدا کے فضل کا ہاتھ ان پر رہے ورنہ اگر انسان اپنے نفس پر چھوڑا جاوے تو وہ ہرگز معصوم اور محفوظ نہیں ہوسکتا اَللّٰھُمَّ بَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ اور دوسری دعائیں بھی استغفارکے اس مطلب کو بتلاتی ہیں۔عبودیت کا سِرّ یہی ہے کہ انسان خدا کی پناہ کے نیچے اپنے آپ کو لے آوے جو خد اکی پناہ نہیں چاہتا ہے وہ مغرور اور متکبر ہے۔۱ ۱۸؍جون ۱۹۰۳ء (بوقتِ ظہر) ۱ البدرجلد ۲ نمبر ۲۳ مورخہ ۲۶؍ جون ۱۹۰۳ء ۱۷۸،۱۷۹