ملفوظات (جلد 5) — Page 177
جو شخص اس قدر جلدی قطع تعلق کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہم کیسے اُمید کرسکتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اس کا پکّا تعلق ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ اب چند دنوں سے پیش تھا کہ ایک صاحب نے اوّل بڑے چاہ سے ایک شریف لڑکی کے ساتھ نکاح ثانی کیا مگر بعد ازاں بہت سے خفیف عذر پر دس ماہ کے اندر ہی انہوں نے چاہا کہ اس سے قطع تعلق کر لیا جاوے اس پر حضرت اقدسؑ کو بہت سخت ملال ہوا اور فرمایا کہ مجھے اس قدر غصہ ہے کہ میں اسے برداشت نہیں کرسکتا اور ہماری جماعت میں ہو کر پھر یہ ظالمانہ طریق اختیار کرنا سخت عیب کی بات ہے۔چنانچہ دوسرے دن پھر حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ وہ صاحب اپنی اس نئی یعنی دوسری بیوی کو علیحدہ مکان میں رکھیں جو کچھ زوجہ اوّل کو دیویں وہی اسے دیویں ایک شب اُدھر رہیں تو ایک شب اِدھر رہیں اور دوسری عورت کوئی لونڈی غلام نہیں ہے بلکہ بیوی ہے اسے زوجہ اوّل کا دستِ نگر کرکے نہ رکھا جاوے۔ایسا ہی ایک واقعہ اس سے پیشتر کئی سال ہوئے گزر چکا ہے کہ ایک صاحب نے حصولِ اولاد کی نیت سے نکاح ثانی کیا اور بعد نکاح رقابت کے خیال سے زوجہ اوّل کو جو صدمہ ہوا اور نیز خانگی تنازعات نے ترقی پکڑی تو انہوں نے گھبرا کر زوجہ ثانی کو طلاق دے دی۔اس پر حضرت اقدس نے ناراضگی ظاہر فرمائی۔چنانچہ اور خاوندنے پھر اس زوجہ کی طرف میلان کرکے اسے اپنے نکاح میں لیا اور وہ بیچاری بفضل خدا اس دن سے اب تک اپنے گھر میں آباد ہے۔گر می کا موسم اور اشتیاق زیارت اور کلام کے سننے میں احباب کے مِل مِل کر بیٹھنے پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ مکان کو وسیع کر دیوے تو یہ شکایت رفع ہو۔ہر ایک شخص تقاضائے محبت سے آگے آتا ہے اور جگہ ہوتی نہیں۔۱ البدرجلد۲نمبر۲۳مورخہ۲۶؍جون۱۹۰۳ء صفحہ۱۷۸